لباس — Page 35
37 میاں بیوی کے حقوق و فرائض ہے ، تو ایسی عورتیں پھر کوئی غیریت نہیں رکھا کرتیں۔اور حضرت خدیجہ نے ہمیشہ کے لئے عورتوں کو ایسا خراج تحسین پیش کیا ہے کہ اُس کی مثال آپ کو دنیا میں کہیں اور دکھائی نہیں دے گی۔پس اس نمونے کو آپ پکڑیں۔جتنا آپ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے قریب ہوں گے اتنا ہی زیادہ اپنے گھروں پر اپنی بیویوں پر آپ کا نیک اثر پڑتا چلا جائے گا۔یہاں تک کہ پھر جہاں دونوں طرف سے اعلیٰ اخلاق کا نمونہ ہو وہاں یہ غیریت مٹ جایا کرتی ہے۔یہ سوال ہی نہیں رہا کرتا کہ کون سا مال کس کا ہے۔وہ دونوں یہ سمجھتے ہیں کہ دوسرے کا مال ہے۔اور یہ ہی وہ طریق ہے جس سے گھر میں جنت پیدا ہوتی ہے۔عورتیں بھی جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے وہ بھی اس قصور میں شریک ہیں کیونکہ اکثر مطالبوں کا آغاز ساسوں سے ہوتا ہے یعنی بیٹے کی ماں کی طرف سے اکثر یہ ہوتا ہے اور جن معاملات میں مجھے تحقیق کا موقعہ ملا ہے مجھے پتہ چلا ہے کہ بسا اوقات ایسے مرد کمزور ہیں ، جن کی بیویاں ایسے مطالبے کرتی ہیں اور اُن کے بیٹے اُن کی سو فیصدی غلام ہوتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ نیکی اسی بات میں ہے کہ ہر بات میں اطاعت کرو حالانکہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اطاعت اُس حد تک فرض ہے جس حد تک خدا کی اطاعت سے تمہیں باہر نہ نکال دے۔جہاں ماں باپ کی اطاعت تمہیں خدا کی اطاعت سے باہر نکلنے پر مجبور کرے وہاں تم نے خدا کی اطاعت کرنی ہے۔ماں باپ کی اطاعت نہیں کرنی۔(خطبہ جمعہ مورخہ 23 مارچ 1988ء بمقام لندن) گھروں کو جنت نظیر بنائیں: ہیں : سید نا حضرت مرزا مسرور احمد صاحب خلیفہ امسح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے