لباس

by Other Authors

Page 23 of 124

لباس — Page 23

موقت اور رحمت : 25 میاں بیوی کے حقوق و فرائض ط حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آگے چل کر وَ جَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَرَحْمَةٌ (سورۃ روم آیت : 22) کی پر معارف تشریح کرتے ہوئے کیا ہی حسین رنگ میں میاں بیوی کے تعلقات کو بیان فرمایا ہے : ” دوسری بات خدا تعالیٰ نے یہ بتائی کہ وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً ( سورة روم آیت :22) اس ذریعہ سے تم میں موڈت پیدا کی گئی ہے۔موڈت محبت کو کہتے ہیں۔لیکن اگر اس کے استعمال اور اس کے معنوں پر ہم غور کریں تو محبت اور مودت میں ایک فرق پایا جاتا ہے۔اور وہ یہ کہ مودۃ اس محبت کو کہتے ہیں جو دوسرے کو اپنے اندر جذب کر لینے کی طاقت رکھتی ہے لیکن محبت میں یہ شرط نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ موڈت کا لفظ بندوں کی آپس کی محبت کے متعلق استعمال کیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ مرد، عورت کو اور عورت ، مرد کو جیت لینا چاہتی ہے۔ان میں سے جو دوسرے کو جیت لیتا ہے وہ مرد ہوتا ہے اور جسے جیت لیا جاتا ہے وہ عورت ہوتی ہے۔مگر اللہ تعالیٰ کے لئے یہ لفظ نہیں رکھا گیا۔کیونکہ بندہ کی کیا طاقت ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کو جذب کر سکے۔چنانچہ قرآن کریم میں یہ نہیں آیا کہ بندہ خدا کے لئے وَدُودُ ہے مگر خدا تعالیٰ کے لئے آیا ہے کہ وہ وَدُودُ ہے۔وہ بندہ کو جذب کر لیتا ہے۔مگر مرد و عورت کے لئے مودۃ کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔چونکہ انسانوں کو کامل کرنا مقصود تھا اس لئے خدا تعالیٰ نے ایسے احساسات مرد اور عورت میں رکھے کہ مرد چاہتا ہے عورت کو جذب کرے اور عورت چاہتی ہے مرد کو جذب کرے لیکن خدا تعالیٰ کو بندہ جذب نہیں کر سکتا۔اس لئے بندوں کے لئے يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ يَا أَشَدُّ حُبًّا لِلهِ آتا ہے۔يَوَدُّونَ اللہ نہیں آتا۔