لباس — Page 18
20 میاں بیوی کے حقوق و فرائض مخاطب کیا گیا ہے دونوں کو دو دوست کہا گیا ہے۔جو ایک ساتھ زندگی نبھانے کا عہد باندھتے ہیں۔یہ دل کی دو دھڑکنیں ہیں جو دو وجودوں میں ایک ساتھ چلتی ہیں گاڑی کے دو پہیئے ہیں جو ایک ساتھ آگے بڑھتے ہیں۔بادام کی اُن دو گریوں کی طرح ہیں جو ایک خول میں پیوست ہوتی ہیں۔اُن کو جدا جدا کر دیں تو کہلاتی بادام کی گریاں ہی ہیں مگر خوبصورت اور حسین اسی وقت لگتی ہیں جب اُن کو اپنی اصل حالت میں جوڑ دیا جائے۔غالباً یہی وجہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اسے زوج ( جوڑا) کے لفظ سے یاد کیا ہے۔جو حقوق و فرائض کے حوالہ سے جدا نہیں ہو سکتے۔اگر اُن میں سے کسی کا کوئی حق ہے تو وہ دوسرے فریق کا فرض ہے اور اگر وہ پہلے فریق کا فرض ہے تو دوسرے کا وہ حق ہے۔اسی لئے دونوں میں سے ہر فریق Give and take کے اصول کو اپناتے ہوئے پہلے اپنے ساتھی کے حقوق ادا کرنے کی کوشش کرے۔اُس کے اپنے حقوق خود بخود پیروی کریں گے۔میاں بیوی کو انگریزی کے اس محاورہ کی طرف بھی توجہ دینی چاہئے۔"If you wish to be Loved, Love" "I ' Love creates Love" کے معنوں میں بھی یاد کیا جاتا ہے۔اور ہم اس دُنیا میں دیکھتے ہیں کہ ہم میں سے ہر کوئی دوسرے کی محبت کا طلبگار ہوتا ہے۔اُسے اس محبت کو حاصل کرنے کے لئے محبت کے دیپ جلانے پڑتے ہیں۔پیار واخوت کے پھول نچھاور کرنے پڑتے ہیں۔اپنائیت کے رستے کو اپنا نا پڑتا ہے۔دوسروں کے لئے وہی چاہو جو اپنے لئے پسند کرتے ہو“ کے رہنما اصول کو حرز جاں بنانا پڑتا ہے۔سخت قومی رکھنے والے قوموں کو صنفِ نازک قواریر کے مفہوم کو