لباس — Page 15
17 میاں بیوی کے حقوق و فرائض گھڑیوں میں ایک دوسرے کے کام آئیں۔اور پریشانی کے عالم میں ایک دوسرے کی دلجمعی اور سکون کا باعث بنیں۔غرض جس طرح جسم کی حفاظت کرتا ہے اور اُسے سردی اور گرمی کے اثرات سے بچاتا ہے اسی طرح انہیں ایک دوسرے کا محافظ ہونا چاہئے۔حضرت خدیجہ کی مثال دیکھ لو۔انہوں نے شادی کے معابعد کس طرح اپنا سارا مال رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیا۔تا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو روپیہ نہ ہونے کی وجہ سے کوئی دقت پیش نہ آئے۔اور آپ پورے اطمینان کے ساتھ خدمت خلق کے کاموں میں حصہ لیتے جائیں۔یہ اہلی زندگی کو خوشگوار رکھنے کا کتنا شاندار نمونہ ہے جو انہوں نے پیش کیا۔“ ( تفسیر کبیر جلد دوئم صفحہ 411) لفظ ” ہی کی تشریح بیان کرتے ہوئے ایک اور جگہ آپ نے تحریر فرمایا : خدا تعالیٰ فرماتا ہے هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَأَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ ، (بقره آيت 188) یعنی عورتیں تمہارے لئے ہیں اور تم اُن کے لئے ہو۔پس موجب سکون اور آرام ہونے میں دونوں برابر ہیں۔عورت مرد کے لئے سکون کا باعث ہے اور مرد عورت کے لئے۔مرد و عورت دونوں کو ایک کہہ کر اس طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ دونوں کو ایک دوسرے کی حفاظت کرنی چاہئے۔اگر کوئی نہا دھو کر نکلے لیکن میلے کچیلے کپڑے پہن لے تو کیا وہ صاف کہلائے گا۔کوئی شخص خواہ کس قدر صاف ستھرا ہو لیکن اس کا گندہ ہو تو وہ گندہ ہی کہلاتا ہے۔پس هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَأَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّھ میں مرد اور عورت کو ایک دوسرے کا نیکی بدی میں شریک قرار دیا ہے اور بتایا ہے کہ دونوں کو ایک دوسرے کا محافظ ہونا چاہئے۔اسی طرح لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا کا مفہوم پورا ہوتا ہے کیونکہ وہ ایک دوسرے کے لئے بطور رفیق سفر کے کام