لباس — Page 11
(i) 13 دو دلچسپ مگر فکر انگیز ارشادات آنے واہ : میاں بیوی کے حقوق و فرائض سید نا حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ مردوں کو مخاطب ہو کر فرماتے ہیں : پس آٹی شخم میں تو اللہ تعالیٰ نے ڈرایا ہے کہ یہ تمہاری کھیتی ہے اب جس طرح چاہو سلوک کرو۔لیکن یہ نصیحت یا درکھو کہ اپنے لئے بھلائی کا سامان ہی پیدا کرنا ورنہ اس کا خمیازہ بھگتو گے۔یہ ایک طریق کلام ہے جو دنیا میں بھی رائج ہے۔مثلاً ایک شخص کو ہم رہنے کے لئے مکان دیں اور کہیں کہ اس مکان کو جس طرح چاہو رکھو۔تو اس کا مطلب اُس شخص کو ہوشیار کرنا ہوگا کہ اگر احتیاط نہ کرو گے تو خراب ہو جائے گا۔اور تمہیں نقصان پہنچے گا۔اسی طرح جب لوگ اپنی لڑکیاں بیاہتے ہیں تو لڑکے والوں سے کہتے ہیں کہ اب ہم نے اسے تمہارے ہاتھ میں دے دیا ہے۔جیسا چاہو اس سے سلوک کرو۔اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ اسے جو تیاں مارا کرو۔بلکہ یہ ہوتا ہے کہ یہ تمہاری چیز ہے اسے سنبھال کر رکھنا۔پس آٹی شتخُم کا مطلب یہ ہے کہ عورت تمہاری چیز ہے اگر اس سے خراب سلوک کرو گے تو اس کا نتیجہ تمہارے لئے بڑا ہوگا۔اور اگر اچھا سلوک کرو گے تو اچھا ہو گا۔دراصل اس آیت سے غلط نتیجہ نکالنے والے آٹی کو پنجابی کا آنگاہ سمجھ لیتے ہیں اور یہ معنی کرتے ہیں کہ آنے ہے واہ کرو۔“ (فضائل القرآن صفحہ 186 )