لباس

by Other Authors

Page 98 of 124

لباس — Page 98

(100) میاں بیوی کے حقوق و فرائض خاوند کی اطاعت کے بعد سب سے بڑا فرض تیرا یہ ہے کہ تو اپنی اولاد کی نیک تربیت کرے تاکہ تیری نیکی دائمی اور تیرے عمل باقیات الصالحات میں شمار ہوں۔اگر صرف ان تین باتوں پر ہی تیرا عمل ہو تو یقین کر لے کہ تو جنت کی حور ، خُدا کی پاک باز اور پیاری بندی اور دُنیا کی رونق اور برکت ہے۔(شمع حرم صفحہ 30-31) مکرم مولوی عبد اللطیف صاحب لکھتے ہیں : اچھی بیوی سردی ، گرمی ، بہار و برسات کے لئے الگ الگ پروگرام بناتی ہے۔اسی طرح خاوند اگر غریب ہو، متوسط حال ہو یا امیر ، اس کی آمد کے لحاظ سے خرچ کرتی ہے اور سگھڑ بیوی کا سب سے بڑا کارنامہ، سب سے بڑی دانائی اور عقلمندی یہی ہے کہ وہ خاوند کی آمدنی کے مطابق خرچ کرے۔اگر ایک عورت اس معاملہ میں کامیاب ہو جائے تو یوں سمجھو دنیا میں ہی بہشت حاصل ہو گیا۔“ (شمع حرم صفحه 192 ) 3- میرے والد مکرم چوہدری نذیر احمد سیالکوٹی مرحوم نے اپنی ہمشیرہ کو رخصتی کے وقت درج ذیل تحریری نصیحت فرمائی : عزیزہ ! تم بالکل اجنبی اور نئے ماحول میں جا رہی ہو۔جس سے تم قطعی طور پر واقف نہیں ہو۔مگر تمہیں بہر صورت اس کو اپنانا ہے۔اور وہاں اپنے دل کو لگانے کی کوشش کرنا ہے۔کیونکہ وہی وہ اصلی اور مستقل گھر ہے، جس میں کہ تم نے اپنی آئندہ زندگی کو بسر کرنا ہے۔اور اس گھر کو نہیں چھوڑ ناختی کہ تمہاری موت تمہیں مجبور کر دے۔اگر چہ ہم تمہیں وہاں نہ ملیں گے، مگر ہماری جگہ وہاں کئی اور نئے رشتہ دار ہونگے۔مثلاً خسر ، ساس ، جیٹھ ، دیور، نندیں ، خاوند وغیرہ وغیرہ۔تمہارا یہ فرض ہوگا کہ ہر ایک کی اس کے درجہ اور رتبہ کے مطابق عزت و توقیر کرو۔اور