لباس — Page 97
99 میاں بیوی کے حقوق و فرائض ہے کہ ایسی ضرب نہ لگے جو چہرہ پر ہو اور جس سے اس پر کوئی داغ لگ جائے۔اس آیت کریمہ کے حوالہ سے بہت سے لوگ اپنی بیویوں پر نا جائز تشدد کرتے ہیں کہ مرد کو بیوی کو مارنے کی اجازت ہے حالانکہ اگر مذکورہ بالا شرائط پوری کریں تو بھاری امکان ہے کہ کسی تشدد یا سختی کی ضرورت ہی نہ پڑے۔اگر تشدد جائز ہوتا تو حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بیویوں پر بدنی تشدد کی کوئی ایک ہی مثال نظر آجاتی۔حالانکہ بعض بیویاں بعض دفعہ آپ کی ناراضگی کا موجب بھی بن جاتی تھیں۔“ (سورۃ النساء آیت foot note35 ترجمہ حضرت خلیفہ امسیح الرابع صفحه 14 کچھ خطوط اور تحریرات (135-134 حضرت ڈاکٹر محمد اسماعیل صاحب اپنی ایک تحریر میں عورت کو مخاطب ہو کر فرماتے ہیں : 1 پس آے عورت ! اے گزشتہ نسل کی بیٹی ! موجودہ نسل کی بہن اور بیوی اور آئندہ نسل کی ماں، تیری اور محض تیری خیر خواہی اور فائدہ کے لئے تیرے پیدا کرنے والے اور تیری حقیقی فطرت کے جاننے والے نے تیرے لئے بعض مفید اور اعلی قواعد تجویز فرمائے ہیں تو ان پر عمل کر اور آخرت میں سرخرو ہو۔پہلی بات یہ ہے کہ تو اپنے خداوند خدا کا درجہ اور عظمت دُنیا کی ہر چیز اور ہر عزیز سے بلند اور اعلیٰ سمجھ اور اس کے ان احکام کو جو اس نے تجھ پر فرض کئے ہیں، ہر شخص کے حکم اور منشاء پر مقدم رکھ۔خدا تعالیٰ کے بعد تجھ پر تیرے خاوند کا حق ہے۔تو اس کی حتی الوسع فرمانبرداری کر۔