کتابِ تعلیم — Page 67
42 ۳۱ عالی کار میں اپنی سی طاقتوں اور قوتوں کو ام الحیات وقف کر دے۔خدا تعالیٰ کے بند سے کون ہیں ؟ یہ وہی لوگ ہیں جو اپنی زندگی کو جو اللہ تعالیٰ نے ان کو دی ہے۔اللہ تعالیٰ کی ہی راہ میں وقف کر دیتے ہیں اور اپنی جان کو خدا کی راہ میں قربان کرنا اپنے مال کو اس کی راہ میں صرف کرنا اُس کا فضل اور اپنی سعادت سمجھتے ہیں مگر جو لوگ دنیا کی املاک و جائیداد کو اپنا مقصود بالذات بنا لیتے ہیں۔وہ ایک خوابیدہ نظر سے دین کو دیکھتے ہیں۔مگر حقیقی مومن اور صادق مسلمان کا یہ کام نہیں ہے سچا اسلام یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی ساری طاقتوں اور قوتوں کو مادام الحیات وقف کر دے تا کہ وہ حیات طیبہ کا وارث ہو۔چنانچہ خود خدا تعالی اس یہی وقف کی طرف ایماء کر کے فرماتا ہے :- مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَةَ جرة عِندَ رَيهِ مِن وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ (البقرة : ١١٣ ) يَحْزَنُونَ۔اس جگہ اسْلَمَ وَجْهَهُ لِلہ کے معنی یہی ہیں کہ ایک نیستی اور تذلل کا لباس پہن کر آستانه الو بہقیت پر گر سے اور اپنی جان، مال، آیه و عرس جو کچھ اس کے پاس ہے۔خدا ہی کے لئے وقف کر نے اور دنیا اور اس کی ساری چیزیں دین کی خادم بنا دے " ( ملفوظات جلد اول ۳۶۳)