کتابِ تعلیم — Page 61
41 ذات کی نکلتی ہے کہ جس میں کوئی نقصان نہیں اور اپنی ذات میں کامل ہے۔اور عملی صراط مستقیم یہ ہے کہ حقیقی نیکی بنجالا نا یعنی وہ امر جوہ حقیقت میں ان کے حق میں اصلح اور راست ہے بجا لانا یہ توحید عملی ہے کیوں کہ موحد کی اس میں یہ غرض ہوتی ہے کہ اس کے اخلاق سراسر خدا کے اخلاق میں فانی ہوں اور حق النفس میں علمی صراط مستقیم یہ ہے کہ جو جو نفس میں آفات پیدا ہوتے ہیں جیسے عجب اور دیا اور تکبر اور حقد اور حسد اور غرور اور حرص اور بخل اور غفلت اور ظلم ان سب سے مطلع ہونا اور جیسے وہ حقیقت میں اخلاق رذیلہ ہیں ویسا ہی ان کو اخلاق رزیلہ جانا یہ علی صراط مستقیم ہے اور یہ توحید علمی ہے کیوں کہ اس سے عظمت ایک ہی ذات کی نکلتی ہے۔کہ جس میں کوئی عیب نہیں اور اپنی ذات میں قدوس ہے اور حق النفس میں عملی میراط مستقیم یہ ہے جو نفس سے ان اخلاق رذیلہ کا قلع قمع کرتا اور صفت تخلی من رذائل اور تحلی بالفضائل سے متصف ہونا یہ عملی صراط مستقیم ہے یہ توحید حالی ہے۔کیونکہ موجد کی اس سے یہ غرض ہوتی ہے کہ تا اپنے دل کو غیر اللہ کے دخل سے خالی کرے اور نا اس کو فنائی تقدس اللہ کا درجہ حاصل ہو اور اس میں اور حق العباد میں جو عملی صراط مستقیم ہے ایک باریک فرق ہے اور وہ یہ ہے کہ جو عملی صراط مستقیم حق المنفس کا وہ صرف ایک ملکہ ہے جو بذریعہ ورزش کے انسان حاصل کرتا ہے اور ایک بامعنی شرف ہے۔خواہ خارج میں کبھی ظہور میں آد سے یا نہ آوے۔لیکن حق العباد جو عملی صراط مستقیم ہے وہ ایک خدمت ہے اور تبھی متحقق ہوتی ہے کہ جو افراد کثیرہ بنی آدم کو خارج میں اس کا اثر پہنچے اور شر خدمت