کتابِ تعلیم — Page 25
۲۵ کرنے سے ملتا ہے۔جب انسان عبادت کا اصل مفہوم اور مغز حاصل کر لیتا ہے تو خدا تعالیٰ کے انعام دا کرام کا پاک سلسلہ جاری ہو جاتا ہے اور جو نعمتیں آئندہ بعد مردن ظاہری مرئی اور محسوس طور پر ملیں گی وہاب ریحانی طور پر پاتا ہے۔پس یاد رکھو کہ جب تک بہشتی زندگی اسی جہان سے شروع نا ہو۔اور اس عالم میں اس کا حظہ نا اُٹھاؤ اُس وقت تک سیر نا ہو اور نستی ناپکڑو کیوں کہ وہ جو اس دنیا میں کچھ نہیں پاتا اور آئندہ جنت کی امید کرتا ہے وہ طمع خام کرتا ہے۔اصل میں وہ مَنْ كَانَ في هذه اعمى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْمَى بنى اسرائيل : ٣) کا مصداق ہے۔اس لئے جب تک با سوائے اللہ کے کنکر اور سنگ ریزے زمین دل سے دور نہ کر لو اور اُسے آئینہ کی طرح مصفیٰ اور سرمہ کی طرح باریک بنا لو صبر نا کرو۔ہاں یہ سچ ہے کہ انسان کسی مرگی النفس کی امداد کے بغیر اس سلوک کی منزل کو طے نہیں کر سکتا۔اسی لئے اس کے انتظام و انصرام کے لئے اللہ تعالیٰ نے کامل نمونہ رسول اللہ صلی الہ علیہ وسلم کا بھیجا اور پھر ہمیشہ کے لئے آپ کے سچے جانشینوں کا سلسلہ جاری فرمایا تاکہ نا عاقبت اندیش یہ ہموں کا رد ہو۔جیسے یہ امر ایک ثابت شده صداقت ہے کہ جو کسان کا بچہ نہیں ہے فلائی (گوڈی دینے) کے وقت اصل درخت کو کاٹ دے گا۔اسی طرح پر یہ زمینداری جو حانی زمینداری ہے کامل طور پر کوئی نہیں کر سکتا۔جب تک کسی کامل انسان کے ماتحت نہ ہو۔جو تخم ریزی آب پاشی بلائی کے تمام مرحلے طے کر چکا ہو۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مرشد کامل کی ضرورت انسان کو ہے۔مرشد کامل کے بغیر انسان کا عبادت کرنا اسی نہنگ کا ہے جیسے ایک نادان اور نا واقف