کتابِ تعلیم — Page 137
۱۳۷ ہوئی ہے۔اکثر لوگوں میں بدعتی کا مرض بڑھا ہوا ہوتا ہے۔وہ اپنے بھائی سے نیک ظنی نہیں رکھتے اور ادنی اونی اسی بات پر اپنے دوسرے بھائی کی نسبت بڑے بڑے خیالات کرنے لگتے ہیں اور ایسے عیوب اس کی طرف منسوب کرنے لگتے ہیں کہ اگر وہی عیب اس کی طرف منسوب ہوں تو اس کو سخت ناگوار معلوم ہو۔اس لئے اول ضروری ہے کہ حتی الوسع اپنے بھائیوں پہ بدلتی نہ کی جاوے اور ہمیشہ نیک ظن رکھا جاوے کیونکہ اس سے محبت بڑھتی ہے اور اُنس پیدا ہوتا ہے اور آپس میں قوت پیدا ہوتی ہے اور اس کے باعث انسان بعض دوسرے عیوب مثلاً کیفتہ ، بغض، حسد وغیرہ۔بچا رہتا ہے۔پھر میں دیکھتا ہوں کہ بہت سے نہیں جن میں اپنے بھائیوں کے لئے کچھ بھی ہمدردی نہیں۔اگر ایک بھائی بھوکا مرتا ہو تو دوسرا توجہ نہیں کرتا اور اس کی خبر گیری کے لئے تیار نہیں ہوتا۔یا اگر وہ کسی اور قسم کی مشکلات میں ہے تو اتنا نہیں کراتے کہ اس سے لئے اپنے مال کا کوئی حصہ خرچ کریں۔حدیث شریف میں ہمسایہ کی خبر گیری اور اس کے ساتھ ہمدردی کا حکم آیا ہے بلکہ یہانتک بھی ہے کہ اگر تم گوشت پکاؤ تو شور با زیادہ کر لو تا کہ اے بھی دے سکو۔اب کیا ہوتا ہے اپنا ہی پیٹ پالتے ہیں۔لیکن اس کی کچھ پرواہ نہیں یہ مت سمجھو کہ ہمسایہ سے اتنا مطلب ہے جو گھر کے پاس رہتا ہو۔بلکہ جو تمہار سے بھائی ہیں وہ بھی ہمسایہ ہی ہیں خواہ وہ سو کوس کے فاصلے پر بھی ہوں۔شخص کو ہر روز اپنا مطالعہ کرنا چاہیے کہ وہ کہان تک ان کی پروا کرتا ہے اور کہاں تک وہ اپنے بھائیوں سے بھر دی اور سلوک کرتا ہے۔اس کا بڑا