کتابِ تعلیم

by Other Authors

Page 124 of 162

کتابِ تعلیم — Page 124

۱۲۴ اس سے ڈرے کہ امانت کے لینے سے کوئی خرابی پیدا نہ ہو۔مگر انسان نے اس امانت کو اپنے سر پر اٹھا لیا کیونکہ وہ علوم اور جہول تھا۔یہ دونوں لفظ انسان کے لئے محل مدح میں ہیں نہ محل ندست ہیں۔اور ان کے معنے یہ ہیں کہ انسان کی فطرت میں ایک صفت تھی کہ وہ خدا کے لئے اپنے نفس پر ظلم اور سختی کر سکتا تھا۔اور ایسا خدا تعالیٰ کی طرف جھک سکتا تھا کہ اپنے نفس کو فراموش کر دے۔اس لئے اُس نے منظور کیا کہ اپنے تمام وجود کو امانت کی طرح پائے۔اور پھر خدا کی راہ میں خرچ کر دیے " در وحانی خزائن جلد ۲۱ ص ۲۳) قضا و قدر سے پیش آنے والے حادثات کی برداشت بھی تزکیہ نفس کا باعث ہوتی ہے۔یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ کے فضل کے حاصل کرنے کے دو راہ ہیں۔ایک تو زید نفس کسی اور مجاہدات کا ہے اور دوسرا قضا و قدر کا لیکن مجاہدات سے اس راہ کا طے کرنا بہت مشکل ہے۔کیونکہ اس میں انسان کو اپنے ہاتھ سے اپنے بدن کو جو اور خستہ کرنا پڑتا ہے۔عام طبائع بہت کم اس پر قادر ہوتی ہیں۔کہ وہ دیده دانسته تکلیف جھیلیں۔لیکن قضا و قدر کی طرف سے جو واقعات اور حادثات انسان پیدا کر پڑتے ہیں وہ ناگہانی ہوتے ہیں اور جب آپڑتے ہیں تو قهر درویش بر جان درویش ان کو برداشت کرنا ہی پڑتا ہے جو کہ اس کے تزکیہ نفس کا باعث ہو جاتا ہے۔ملفوظات جلد چهارم حت)