کتابِ تعلیم — Page 114
16 اخلاقی تزکیہ کے لئے خدا تعالیٰ کے فضل کو جذب کرنے کے تین پہلو " انسان موٹی موٹی بدیوں کو تو آسانی سے چھوڑ بھی دیتا ہے لیکن بعض بریایی ایسی باریک اور مخفی ہوتی ہیں کہ اول تو انسان مشکل سے انہیں معلوم کرتا ہے اور پھر ان کا چھوڑنا اسے بہت ہی مشکل ہوتا ہے۔اسکی ایسی ہی مثال ہے کہ محرقہ بھی گو سحبت تپ ہے مگر اس کا علاج کھلا کھل ہو سکتا ہے لیکن تپدق جو اندر ہی کھا رہا ہے اس کا علاج بہت ہی مشکل ہے۔اسی طرح پر یہ باریک اور مخفی بدیاں ہوتی ہیں جو انسان کو فضائل کے حاصل کرنے سے روکتی ہیں۔یہ اخلاقی بدیاں ہوتی ہیں جو ایک دوسرے کے ساتھ میل ملاپ اور معاملات میں پیش آتی ہیں اور ذراذراسی بات اور اختلاف رائے پر دلوں میں بغض ، کینہ ، حسد، ریا ، تکبر پیدا ہو جاتا ہے اور اپنے بھائی کو حقیر سمجھنے لگتا ہے۔چند روز اگر نماز سنوار کو پڑھی ہے اور لوگوں نے تعریف کی تو ریا اور نمود پیدا ہو گیا اور وہ اصل غرض جو اخلاص تھی جاتی رہی۔اور اگر خدا تعالیٰ نے دولت دی ہے یا علم دیا ہے یا کوئی خاندانی وجاہت حاصل ہے تو اس کی وجہ سے اپنے دوسرے بھائی کو جس کو یہ باتیں نہیں ملی ہیں ، حقیر اور ذلیل سمجھتا ہے اور اپنے بھائی کی عیب چینی کے لئے حریص ہوتا ہے۔اور تکبر مختلف رنگوں میں ہوتا ہے کسی میں کسی رنگ میں اور کسی میں کسی طرح سے۔علماء علم کے زہنگ میں اُسے ظاہر کرتے ہیں اور