کتابِ تعلیم

by Other Authors

Page 101 of 162

کتابِ تعلیم — Page 101

1-1 ہے یعنی شہوات نفسانیہ ان کا وہ حصہ جو حرام کے طور پر ہے چھوڑ دیتا ہے ہم بیان کر چکے ہیں کہ ہر ایک انسان اپنی شہوات نفسانیہ کو طبعا مان سے عزیز سمجھتا ہے اور مال کو ان کی راہ میں خدا کرتا ہے۔پس بلا شبہ مال کے چھوڑنے سے خدا کے لئے شہوات کو چھوڑنا بہت بھاری ہے اور لفظ افلح اس آیت سے بھی تعلق رکھتا ہے۔اس کے اس جگہ یہ معنے ہیں کہ جیسے شہوات نفسانیہ سے انسان کو طبعا شدید تعلق ہوتا ہے ایسا ہی ان کے چھوڑنے کے بعد وہی شدید تعلق خدا تعالٰی سے ہو جاتا ہے۔کیونکہ جو شخص کوئی چیز خدا تعالیٰ کی راہ میں کھوتا ہے اس سے بہتر پالیتا ہے۔نطف او ترک طالبان نه کند که کسی به کار ریش زیان نه کند هر که آن راه جست یافته است تافت آن رو که سرنتافته است پھر پانچواں کام مومن کا جبس پانچویں درجہ تک قوت ایمانی پہنچے جاتی ہے۔عبدالعقل یہ ہے کہ صرف ترک شہوات نفس ہی نہ کرے بلکہ خدا کی راہ میں خود نفس کو ہی ترک کر دے اور اس کے فدا کرنے پر تیار ہے یعنی نفس جو خدا کی امانت ہے اسی مالک کو واپس دید سے اور نفس سے صرف اس قدر تعلق رکھے جیسا کہ ایک امانت سے تعلق ہوتا ہے۔اور دقائق تقویٰ ایسے طور پر پورے کرے کہ گویا اپنے نفس اور مال اور تمام چیزوں کو خدا کی راہ میں وقف کر چکا ہے۔اسی طرف یہ آیت اشارہ فرمانی ہے۔وَالَّذِينَ هُمْ لا مَا نَا تِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رَاعُونَ بس جبكم انسان کے جان و مال اور تمام قسم کے آرام خدا کی امانت ہے جس کو واپس دنیا امین ہونے کے لئے شرط ہے۔لہذا ترک نفس وغیرہ کے : - المومنون : ٩ :