خطبات وقف جدید — Page 75
75 حضرت مصلح موعود اگر تحریک جدید کے پاس روپیہ ہی نہ ہوا تو وہ انھینچ حاصل کر کے روپیہ باہر کس طرح بھیجے گی۔اس لئے وعدے بہر حال آنے چاہئیں اور چندہ کی وصولی بھی باقاعدہ ہونی چاہئے تا کہ جب بھی گورنمنٹ اینچ دے تحریک جدید روپیہ باہر بھیج سکے اگر گورنمنٹ نے ایکسچینج منظور کر لیا اور تحریک جدید روپیہ باہر نہ بھیج سکی تو گورنمنٹ کی نظروں میں بھی ہماری سبکی ہوگی اور مبلغ بھی روپیہ نہ ملنے کی وجہ سے تکلیف اٹھائیں گے۔یہی مبلغ ہیں جن کے کام پر ہماری جماعت فخر کرتی ہے۔کل کسی نے اخبار ” صدق جدید کا ایک کٹنگ مجھے بھجوایا تھا کہ احمدی جماعت میں لاکھ برائیاں ہوں لیکن گذشتہ جلسہ پر انھوں نے اکاون (51) زبانوں میں جو تقریر میں کروائی ہیں اور غیر ممالک میں اشاعت اسلام کے لئے جو جد و جہد کر رہے ہیں ان کا یہی کام اگر ترازو کے ایک پلڑے میں رکھا جائے اور ان کی برائیوں کو جو لوگ بیان کرتے ہیں دوسرے پلڑے میں رکھا جائے تو ان کے اچھے کام والا پلڑا بوجھل ہو گا اور ان کی برائیوں کا پلڑا کمزور ثابت ہو کر اوپر اٹھ جائے گا۔اب دیکھو یہ ہماری تبلیغ کا ہی اثر ہے۔پاکستان کے وزراء اور سفراء باہر جاتے ہیں تو وہ بھی واپس آکر ہمارے مبلغین کے کام کی تعریف کرتے ہیں۔پچھلے دنوں ایک ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس ربوہ آئے تو انھوں نے بتایا کہ وہ ایک دفعہ ٹرینی ڈاڈ گئے تھے۔انھوں نے دیکھا کہ احمدیت کے مبلغ کی وجہ سے وہاں پاکستان کی لوگوں میں زیادہ شہرت ہے۔اسی طرح پرسوں ایک خط آیا کہ کسی عیسائی نے اسلام کے خلاف اعتراضات کئے۔تو ہمارے مبلغ شکر الہی صاحب نے اس کا جواب شائع کیا۔اسے پڑھ کر شاہ فاروق کی والدہ ملکہ نازلی نے کہا کہ اشاعت اسلام کا کام صرف احمدی مبلغین ہی کر رہے ہیں۔ان کے سوا اور کوئی یہ کام نہیں کر رہا۔ان لوگوں نے ہی اس ملک میں اسلام کی عزت کو قائم رکھا ہوا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ہمارے مبلغین کے ذریعہ غیر ممالک میں اسلام کو عظمت حاصل ہوتی ہے غیر ملکوں مثلاً مشرقی افریقہ ، مغربی افریقہ، جرمنی ، سکینڈے نیویا، سوئٹزر لینڈ، ہالینڈ، امریکہ اور انگلینڈ میں ہمارے مبلغ اسلام کی اشاعت کرتے ہیں اور جب ان کے ذریعہ سے غیر ممالک میں اسلام کی عزت بڑھتی ہے تو ان کے کام پر جہاں احمدی فخر کر سکتے ہیں وہاں غیر احمدی بھی فخر کر سکتے ہیں۔پچھلے دنوں انڈونیشیا سے ایک چینی لڑکا آیا تھا (انڈونیشیا میں چینی لوگ بھی آباد ہیں ) اس لڑکے نے بتایا کہ مجھے احمدی مبلغوں کے ذریعہ ہی تبلیغ ہوئی تھی اور اسی کے نتیجہ میں میں مسلمان ہوا۔وہ لڑکا بڑا مخلص تھا۔تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے بیرونی ممالک میں ہر جگہ اسلام احمدی مبلغین کے ذریعہ تقویت پا رہا ہے اور ان کے لئے چندہ کے وعدے بھجوانا چاہئے وہ فوری طور پر ادا کئے جائیں جو ایک بڑی دینی خدمت ہے اور خدا تعالیٰ کی خوشنودی کا موجب ہے۔اگر گورنمنٹ کی مالی حالت اچھی ہوگئی اور اس کے پاس ایکھینچ جمع ہو گیا تو وہ اس نے بہر حال تقسیم کرنا ہے اگر انھوں نے کسی وقت