خطبات وقف جدید — Page 56
56 حضرت مصلح موعود لئے میں دوستوں سے کہتا ہوں کہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہماری شوری میں برکت ڈالے اور ہمیں ایسا کام کرنے کی توفیق دے جس کے نتیجے میں اسلام دنیا کے چاروں کونوں میں پھیل جائے اور یہ کام اس چھوٹی سی جماعت سے نہیں ہو سکتا یہ صرف خدا تعالیٰ کی مدد سے ہی ہو سکتا ہے۔اصل میں تو چھوٹے چھوٹے کام بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے ہی ہو سکتے ہیں رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ ہر کام جس میں کچھ نہ کچھ اہمیت نظر آتی ہو اس سے پہلے استخارہ کر لیا کرو۔اس کے معنی یہی ہیں کہ در حقیقت سب کام خدا تعالیٰ کی مدد سے ہوتے ہیں لیکن دنیا کو دلائل اور قرآن کریم کے ساتھ فتح کرنا تو بہت بڑا کام ہے۔قرآن کریم کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَقَالَ الرَّسُولُ يُرَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا (فرقان : آیت 31) یعنی ہمارے رسول نے ہمارے پاس فریاد کرتے ہوئے کہا کہ اے میرے رب میری قوم نے اس قرآن کو اپنی پیٹھ کے پیچھے پھینک دیا ہے۔اب بتاؤ کہ جس قرآن کو مسلمان بھی اپنی پیٹھ کے پیچھے پھینک رہے ہوں اس قرآن کو اپنے ہاتھ میں لے کر ان عیسائیوں میں نکل جانا جو 1900 سوسال سے برابر اسلام کو مٹانے کے لئے زور لگا رہے ہیں اور اسلام اور قرآن کریم کو دوبارہ قائم کرنا کیا کوئی معمولی بات ہے۔اس کے لئے تو ہمیں ہمیشہ یہ دعائیں کرتے رہنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے مبلغوں کو کا میاب کرے اور دوسرے نو جوانوں کو بھی جن میں طاقت اور ہمت ہے خدا تعالیٰ توفیق دے کہ وہ اپنی زندگیاں وقف کر کے دین کی خدمت کے لئے آگے نکل آئیں۔میں نے اس غرض کے لئے وقف جدید کی تحریک جاری کی تھی اور امید تھی کہ واقفین بڑا اچھا کام کریں گے اور گو اس کو جاری ہوئے ابھی تھوڑا عرصہ ہی ہوا ہے لیکن پھر بھی بعض لوگوں کو باہر گئے ہوئے دو دو ماہ یا اس سے زیادہ عرصہ گزر گیا ہے مگر جو نتائج ابھی تک ظاہر ہوئے ہیں وہ کوئی خوش کن نہیں ہیں چنانچہ پچھلے سال مارچ کے مہینے میں 200 آدمیوں نے بیعت کی تھی لیکن اس سال مارچ کے مہینے میں صرف 101 کی بیعت ہوئی ہے گویا وقف جدید کے اجراء کے بعد بیعت آدھی رہ گئی ہے اس کے معنی یہ ہیں کہ انھوں نے صحیح معنوں میں کوشش نہیں کی ورنہ بیعت کا نہ صرف پہلا معیار قائم رہنا چاہئے تھا بلکہ اس سے بھی ترقی کرنا چاہئے تھا اگر یہ لوگ ہماری توقع کے مطابق کام کریں اور جماعت کے دوست بھی اپنے فرائض کو سمجھیں اور خدا اور اس کے رسول کا پیغام لوگوں تک پہنچانے میں کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہ کریں تو یہ مکن ہی نہیں کہ لوگوں پر اثر نہ ہو دیکھ لو اسلام پر ایک ایسا زمانہ بھی آیا تھا جب کہ منافق مسلمانوں سے کہتے تھے کہ تم رسول اللہ ﷺ کو چھوڑ کر بھاگ جاؤ اب تمہاری خیر نہیں۔احادیث میں آتا ہے کہ منافق کھلے بندوں کہتے پھرتے تھے کہ اب تو مسلمان عورتوں کو باہر پاخانہ پھرنے کو بھی جگہ نہیں ملتی اور یہ لوگ مکہ فتح کرنے کے دعوے کرتے ہیں مگر دیکھ لو بھی چند سال بھی نہیں گذرے تھے کہ رسول کریم صل الله