خطبات وقف جدید — Page 55
55 حضرت مصلح موعود 1922ء میں میری عمر 34 سال کی تھی یعنی وہ کہولت کی عمر تھی گو در حقیقت یہی عمر جوانی کی انتہائی طاقت کی ہوتی ہے ورنہ جس عمر کو عرف عام میں جوانی کہا جاتا ہے وہ ایک رنگ میں بچپن کا زمانہ ہوتا ہے۔بہر حال جب میری عمر 34 سال کی تھی تو میری یہ حالت تھی کہ میں رمضان کے مہینہ میں روزہ رکھ کر درس دیا کرتا تھا اور یہ درس میں نو بجے صبح سے شروع کیا کرتا تھا اور شام کو ساڑھے پانچ بجے کے قریب ختم کیا کرتا تھا۔اور بعض دفعہ تو ایسا بھی ہوا کہ روزہ کھول کر میں نے درس بند کیا۔مجھے یاد ہے کہ بعض دفعہ ایسا ہوا کہ درس ابھی ختم نہیں ہوا تھا کہ اذان ہو گئی ہم نے روزہ کھولا، نماز پڑھی اور پھر دوبارہ درس دینا شروع کر دیا لیکن اب یہ ہوا کہ رمضان آیا تو میں نے کہا کہ رمضان میں قرآنِ کریم کی زیادہ تلاوت کرنی چاہئے چنانچہ میں نے اس مہینہ میں تلاوت قرآن کریم شروع کر دی اور بارہ سیپارہ روزانہ کی تلاوت کی۔بعض دفعہ مجھے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ جیسے میں بیہوش ہو چلا ہوں لیکن پھر بھی ہمت کر کے پڑھتا چلا گیا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے توفیق دے دی کہ میں نے اپنا ارادہ پورا کر لیا اور آخری دم تک برابر بارہ پارے قرآنِ کریم کے پڑھتا رہا۔یوں حافظ تو شاید اس سے بھی زیادہ پڑھ سکتے ہیں چونکہ انھوں نے قرآن کریم حفظ کیا ہوتا ہے اس لئے وہ جلدی جلدی پڑھ سکتے ہیں لیکن جب وہ تلاوت کر رہے ہوتے ہیں تو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کیا تلاوت کر رہے ہیں۔ہماری جماعت کے ایک مخلص دوست مولوی عبد القادر صاحب مرحوم تھے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پرانے صحابی اور حکیم محمد عمر صاحب کے والد تھے وہ بڑے نیک انسان تھے لیکن جب قرآن کریم پڑھا کرتے تو اتنی جلدی جلدی پڑھتے کہ پتہ نہیں لگتا تھا کہ وہ کیا پڑھ رہے ہیں لیکن اگر قرآن کریم کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھا جائے تو بارہ سیپارے روزانہ پڑھ لینا بڑی ہمت کا کام ہوتا ہے سوائے اس کے کہ جو حصہ زیادہ کثرت سے پڑھا ہوتا ہے وہ نسبتاً جلدی نظر سے گذر جاتا ہے چنانچہ قرآن کریم کی آخری سورتیں مجھے اکثر یاد تھیں اگر چہ اب میں ان میں سے کچھ حصہ بھول گیا ہوں لیکن پھر بھی میں جب ان پر پہنچا تھا تو میری رفتار بہت تیز ہو جاتی تھی شروع میں رفتار کمزور ہوتی تھی کیونکہ صحت کی کمزوری کی وجہ سے توجہ ہٹ جاتی تھی مگر آخری حصہ باوجود بیماری کے جلدی گذر جاتا تھا۔پس یہ گرمی ایک استثنائی صورت میں پڑی ہے اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اپنے مومن بندوں کی حفاظت کرے کیونکہ جیسا کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے یہ گرمی دوزخ کا ایک نمونہ ہے۔میں نے بتایا ہے کہ پچھلے سال ہم مئی میں پہاڑ پر گئے اور وہاں ہم لحاف لے کر سوتے تھے لیکن اس دفعہ وہاں دروازے اور کھڑکیاں کھول کر سونا پڑتا تھا۔اسی طرح پچھلے سال وہاں کا ٹمپریچر 50 درجہ سے بھی کم تھا لیکن اس دفعہ 94 تھا اور یہ بہت بڑا فرق ہے۔بہر حال آج شوری کا اجلاس بھی ہے اور دوستوں کو وہاں جانا پڑے گا اس