خطبات وقف جدید — Page 614
614 حضرت خلیق اس ال اس د الله: اساس س ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ہے۔گو پانچ ساڑھے پانچ روپے کے قریب اضافہ ہے اور جیسا کہ میں نے کہا کہ چندہ دینے والوں کی اکثریت نومبائعین یا چند سال پہلے کے بیعت کنندگان کی ہے۔پس اس طرف مزید توجہ کریں۔ہندوستان کی جماعتیں ابھی تک اپنے اخراجات کا یعنی وقف جدید پر ہونے والے اخراجات کا تقریباً تین فیصد اپنے وسائل سے پورا کر رہی ہیں۔یہ مختصر کوائف جو میں نے دیئے ہیں یہ ہندوستان کی جماعتوں کو توجہ دلانے والے ہونے چاہئیں۔اس طرح جو بیعتوں کی تعداد ہے اس حساب سے بھی شمولیت میں بہت گنجائش ہے۔اگلے سال ہندوستان کو بھی اپنے لئے کم از کم شامل ہونے والوں کا 5 لاکھ کا ٹارگٹ رکھنا چاہئے۔مجھے امید ہے انشاء اللہ دعاؤں اور توجہ سے اس کام میں پڑیں گے تو کوئی مشکل نظر نہیں آئے گی۔جیسا کہ میں نے بتایا کہ حضرت خلیلہ انبیح الرابع رحمہ اللہ تعالی نے 1985ء میں تحریک تمام دنیا کے لئے کر دی تھی اور مقصد ہندوستان کی جماعتوں کی مدد کرنا تھا۔اعداد و شمار سے آپ دیکھ چکے ہیں کہ ہندوستان اپنے وسائل سے فی الحال تین فیصد اخراجات پورے کر رہا ہے اور 97 فیصد اخراجات باہر کی دنیا پورے کرتی ہے اور اس میں یورپ اور امریکہ کے بڑے ممالک ہیں۔اس سال یورپ اور امریکہ کے ممالک کی وقف جدید میں کل وصولی بمشکل ہندوستان کے خرچ پورے کر رہی ہے۔اور افریقہ کی جماعتوں کے بہت سارے اخراجات دوسری مدات سے پورے کئے جاتے ہیں۔تو ان ممالک کو جو مغرب کے ممالک ہیں بھارت اور افریقہ کے وقف جدید کے اخراجات پورے کرنے کی طرف بھی توجہ دینی چاہئے۔اس سوچ کے ساتھ قربانی ہونی چاہئے۔یہاں گنجائش موجود ہے یہ میں نے جائزہ لیا ہے۔میں ایک دفعہ پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ عموماً یہاں دوسرے اخراجات اور منصوبوں کا عذر کیا جاتا ہے کہ وہاں زیادہ خرچ ہو گیا ، اور منصوبے شروع ہو گئے اس لئے اس میں اتنی کمی رہ گئی۔تو یہ جو منصوبے ہیں یا دوسرے اخراجات ہیں، یہ پاکستان میں بھی ہیں لیکن وہاں قربانی کے معیار بڑھ رہے ہیں۔جیسے سپرنگ کو جتنا زیادہ دباؤ اتنازیادہ وہ اچھل کر باہر آتا ہے اور جو چیز اس پر پڑے اس کو اچھال کر پھینکتا ہے۔تو احمدیوں کے حالات جتنے بھی وہاں خراب ہوتے ہیں اتنا زیادہ اچھل کر ان کی قربانیوں کے معیار بڑھ رہے ہیں اور باہر آ رہے ہیں۔اور دوسری دنیا میں بھی جہاں جہاں بھی کوئی سختی جماعت پر آئی وہاں قربانیوں کے معیار بڑھے ہیں۔تو مغربی دنیا اس انتظار میں نہ رہیں کہ ضرور حالات خراب ہوں تو ہم نے قربانیاں بڑھانی ہیں بلکہ اپنے ان بھائیوں کے لئے قربانیوں کی طرف مزید توجہ دیں۔