خطبات وقف جدید — Page 613
613 حضرت عليها اسم الفساد العالی بنصرہ العزیز کریں۔چندوں کی تحریک تو ہمیشہ جماعت میں ہوگی ہوئی اور ہوتی رہے گی کہ ایمان میں مضبوطی کے لئے یہ ضروری ہے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق ہمیں بتایا ہے۔دنیا کی تمام منصوبہ بندیوں میں مال کی ضرورت پڑتی ہے، اس کا بہت زیادہ دخل ہے اور یہ منصوبہ بندی جس میں مال دین کی مضبوطی کے لئے خرچ ہو رہا ہو اور جس کے خرچ کرنے والے کو اللہ تعالیٰ یہ ضمانت دے رہا ہو کہ تمہارے خوف بھی دور ہوں گے اور تمہارے غم بھی دور ہوں گے اور اجر بھی اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور اتنا اجر ہے کہ جس کی کوئی انتہا نہیں تو اس سے زیادہ مال کا اور کیا بہتر استعمال ہوسکتا ہے۔ہر دینے والا جب اس نیت سے دیتا ہے کہ میں دین کی خاطر دے رہا ہوں تو اس نے اپنا ثواب لے لیا۔کس طرح خرچ کیا جارہا ہے، اول تو صحیح طریقے سے خرچ ہوتا ہے۔اور اگر کہیں تھوڑی بہت کمزوری ہے بھی تو چندہ دینے والے کو بہر حال ثواب مل گیا۔اس لئے ہمیشہ ہر وہ احمدی جس کے دل میں کبھی انقباض پیدا ہو وہ اپنے اس انقباض کو دور کرے اور اللہ کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کرے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ بڑی بڑی سلطنتیں بھی آخر چندوں پر ہی چلتی ہیں۔فرق صرف یہ ہے کہ دنیاوی سلطنتیں زور سے ٹیکس لگا کر وصول کرتی ہیں اور یہاں ہم رضا اور ارادے پر چھوڑتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ بندے کی مرضی پر چھوڑ کر پھر اس کا اجر بھی بے حساب دیتا ہے۔پابند نہیں کر رہا کہ اتنا ضرور دینا ہے۔چھوڑ بھی بندے کی مرضی پر رہا ہے، ساتھ فرما رہا ہے جو کچھ تم خرچ کرو گے اس کا اجر بھی دوں گا۔صرف یہ ہے کہ خرچ کرنے والے کی نیت نیک ہونی چاہئے۔اس سے زیادہ سستا اور عمدہ سودا اور کیا ہوسکتا ہے۔ہندوستان کی جماعتوں کو بھی میں کہنا چاہتا ہوں کہ آپ کو رقمیں تو مہیا ہو جاتی ہیں جیسا کہ پہلے بھی میں نے کہا تربیتی اور تبلیغی پروگراموں میں گنجائش موجود ہے اس لئے جتنا وہاں کام ہونا چاہئے تھا اتنا نہیں ہو رہا۔اس لئے اس طرف پھر ایک نئے ولولے اور جوش کے ساتھ توجہ دیں۔گزشتہ سال جب قادیان گئے تو توجہ دلانے پر بہتری کی طرف ہل جل تو پیدا ہوئی ہے۔مالی قربانی کے جو انہوں نے اعداد و شمار بھجوائے ہیں ان سے بھی پتہ چلتا ہے کہ تربیت کی طرف توجہ ہے اور اسی وجہ سے پھر مالی قربانی کی طرف بھی لوگوں کی توجہ ہوئی ہے۔وقف جدید میں مالی قربانی کرنے والوں کی تعداد میں اس سال انہوں نے 4 ہزار کا اضافہ کیا ہے۔لیکن یہ بات شاید پہلی دفعہ ہے کہ جو بجٹ انہوں نے بنایا تھا اور پچھلے سال سے بڑھ کر بنایا تھا اس بجٹ سے انہوں نے نو مبائعین کے علاقے میں دو لاکھ 30 ہزار زائد وصولی بھی کر لی ہے اور فی کس ادائیگی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔چاہے معمولی اضافہ ہے لیکن ان کے لحاظ سے یہ معمولی اضافہ بھی بہت