خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 607 of 682

خطبات وقف جدید — Page 607

607 ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز خطبہ جمعہ فرموده 12 / جنوری 2007 ء بیت الفتوح لندن الَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ بِالَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَّ عَلَانِيَةً فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (البقره:275) آج میں وقف جدید کے نئے سال کے آغاز کا اعلان کروں گا۔عموماً جنوری کے پہلے ہفتہ میں، پہلے جمعہ میں اس کا اعلان ہوتا ہے، یا بعض دفعہ دسمبر کے آخر میں بھی ہوتا رہا۔سفر پر ہونے کی وجہ سے میں نے یہی فیصلہ کیا تھا کہ واپس جا کر انشاء اللہ اعلان ہوگا۔اللہ تعالیٰ آج توفیق دے رہا ہے۔وقف جدید کی تحریک بھی جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں ، حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جاری کردہ تحریک ہے جس کو 1957ء میں حضرت مصلح موعودؓ نے جاری فرمایا تھا اور صرف پاکستان کے احمدیوں کے لئے یہ تحریک تھی۔پاکستان سے باہر کے احمدیوں میں سے اگر کوئی اپنی مرضی سے اس میں حصہ لینا چاہتا تھا تو لے لیتا تھا۔خاص طور پر اس بارے میں تحریک نہیں کی جاتی تھی کہ وقف جدید کا چندہ دیا جائے۔اُس وقت جب یہ جاری کی گئی تو حضرت مصلح موعود کی نظر میں پاکستان کی جماعتوں کے لئے دو خاص مقاصد تھے۔آپ نے جب یہ وقف جدید کی انجمن بنائی تو اس میں حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کو مبر مقرر فرمایا اور آپ کو جو ہدایات دیں وہ خاص طور دو باتوں پر زور دینے کے لئے تھیں۔ایک تو یہ کہ پاکستان کی دیہاتی جماعتوں کی تربیت کی طرف توجہ دی جائے جس میں کافی کمزوری ہے اور دوسرے ہندوؤں میں تبلیغ اسلام کا کام۔خاص طور پر سندھ کے علاقہ میں بہت بڑی تعداد ہندوؤں کی ہے۔حضرت مصلح موعودؓ کو بڑی فکر تھی کہ دیہاتی جماعتوں میں تربیت کی بہت کمی ہے۔خاص طور پر بچوں میں اور اکثریت جماعت کے افراد کی دیہاتوں میں رہنے والی ہے اور اگر ان کی تربیت میں کمی ہوگی تو پھر آئندہ بہت ساری خرابیاں پیدا ہوجائیں گی۔حضرت خلیفۃ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ بیان کرتے ہیں کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالٰی عنہ نے جب مجھے وقف جدید کامبر مقرر فر مایا اور فرمایا کہ سارا جائزہ لو کہ تربیت کی کیا کیا صورتحال ہے۔تو کہتے ہیں کہ جب میں نے جائزہ لیا تو تربیت اور دینی معلومات کے بارے میں انتہائی بھیا نک صورت حال سامنے آئی کہ بچوں کو سادہ نماز بھی نہیں آتی تھی اور تلفظ کی غلطیاں اتنی تھیں کہ کلمہ بھی صحیح طرح نہیں پڑھ