خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 605 of 682

خطبات وقف جدید — Page 605

605 ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ہیں۔پس اس طرف بہت توجہ کی ضرورت ہے۔پھر جہاں لوگ مالی قربانیاں دیں وہاں جو معلمین اور مبلغین ہیں وہ اپنی پوری پوری استعدادوں کو استعمال کریں۔یہاں ہندوستان میں بھی اور پاکستان میں بھی اور دوسری جگہوں پر بھی۔جیسا کہ میں نے کہا یہ تصور ہماری انتظامیہ کے ذہن میں بھی کئی جگہ پر آ گیا ہے۔جماعتی عہد یداران کے اندر بھی موجود ہے کہ ہمارے مربیان کی معلمین کی جو تعداد ہے وہ کافی ہے۔یہ بیج نہیں ہے۔اب زمانہ ہے کہ ہر گاؤں میں ، ہر قصبہ میں اور ہر شہر میں اور وہاں کی ہر مسجد میں ہمارا مربی اور معلم ہونا چاہئے۔اب اس کے لئے بہر حال جماعت کو مالی قربانیاں کرنی پڑیں گی تبھی ہم مہیا کر سکتے ہیں۔پھر جماعت کے افراد کو اپنی قربانیاں کرنی پڑیں گی۔اپنے بچوں کی قربانیاں کرنی پڑیں گی کہ ان کو اس کام کے لئے پیش کریں، وقف کریں۔اور یہ سب ایسے ہونے چاہئیں کہ وہ تقویٰ کے اعلیٰ معیار پر بھی قائم ہوں۔ہم نے صرف آدمی نہیں بٹھانے بلکہ تقویٰ پر قائم آدمیوں کی ضرورت ہے۔آئندہ سالوں میں انشاء اللہ واقفین نو بھی میدان عمل میں آجائیں گے لیکن جو ان کی تعداد ہے وہ بھی یہ ضرورت پوری نہیں کر سکتے۔یہ کام وسیع طور پر ہمیں کرنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے آدمیوں کی ضرورت بڑی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔اللہ تعالیٰ تقویٰ پر چلنے والے مربیان اور معلمین ہمیں مہیا فرما تار ہے۔اب میں کچھ مالی جائزے پیش کرتا ہوں جو گزشتہ سال وقف جدید کی مالی قربانیوں کے تھے۔کیونکہ ہم پاؤنڈوں میں Convert کرتے ہیں اور ساری دنیا کے چندے مختلف کرنسیوں میں ہوتے ہیں اس لئے ایک کرنسی بنانے کے لئے کرنسی سٹرلنگ پاؤنڈ میں رکھی جاتی ہے۔جور پورٹیں موصول ہوئی ہیں ان میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے وقف جدید کی کل وصولی 21 لاکھ 42 ہزار پاؤنڈ ہوئی جو اللہ کے فضل سے گزشتہ سال کی نسبت دو لاکھ پاؤنڈ زائد ہے۔الحمد للہ۔اور شامل ہونے والوں کی تعداد 4لاکھ 66 ہزار ہے۔میں نے بھارت کو ٹارگٹ دیا تھا کہ اگر وہ کوشش کریں تو پانچ لاکھ شامل کر سکتے ہیں ابھی ان کی یہ کوشش جاری ہے لیکن ابھی تک اسے پورا نہیں کیا۔بہر حال اکیاون ہزار نے مخلصین اس وقف جدید کی تحریک میں شامل ہوئے ہیں۔پاکستان ، ہندوستان کی تعداد زیادہ قابل ذکر ہے۔پھر جرمنی، کینیڈا، نائیجیر یا وغیرہ ہیں۔نائیجیریا میں تحریک جدید میں بھی، وقف جدید میں بھی ، مالی قربانیوں کی طرف کافی توجہ پیدا ہو رہی ہے اور ماشاء اللہ کافی آگے بڑھ رہے ہیں۔باقی افریقی ممالک کو بھی نیکیوں میں سبقت لے جانے کی روح کے تحت آگے بڑھنا چاہئے خاص طور پر غانا والے بھی اس طرف توجہ کریں۔اور اسی طرح جیسا کہ میں نے پہلے کہا ہے کہ ہندوستان میں بھی گو کہ تعداد میں اضافہ ہوا ہے لیکن کافی گنجائش موجود ہے کیونکہ ان کی