خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 53 of 682

خطبات وقف جدید — Page 53

53 حضرت مصلح موعود مقابلہ کی تاب نہ لا کر پیچھے کی طرف بھاگ پڑے ہو۔ابوسفیان نے یزید سے کہا۔بیٹا واپس چلو دشمن کے تیروں سے زیادہ سخت ان عورتوں کے ڈنڈے ہیں چنانچہ اسلامی لشکر واپس ہوا اور اس نے دشمن کے لشکر پر فتح پائی۔تو دیکھو اسلام لانے کے بعد ان لوگوں میں خدا تعالیٰ نے کیسا تغیر پیدا کر دیا کہ وہی ہندہ جو مسلمانوں کے خلاف مشرکین کو ابھارا کرتی تھی اور اسلام کی شدید دشمن تھی ، اسلام کی خاطر لوگوں کو ابھارنے لگی اور اس نے اپنے خاوند اور اپنے بیٹے کی سواریوں کے مونہوں پر ڈنڈے مار کر انھیں واپس لوٹا دیا۔تو میں رویاء میں اس مجمع کو جو میں وہاں دیکھتا ہوں کہتا ہوں کہ اپنے ہاتھوں میں اسلام کے سیاہ جھنڈے لے کر باہر نکل جاؤ اور جس طرح پہلے زمانہ میں مسلمانوں نے اسلام کے جھنڈے دنیا کے ہر کونہ میں لہرا دیئے تھے اسی طرح تم بھی اسلام کے جھنڈے دنیا کے تمام کونوں میں لہرا دو۔گویا یہ رویاء میری پہلی رویاء کی ایک تشریح ہے۔یہ کام ہے جو تمہارے سپرد کیا گیا ہے تم اس کام کو جلد سے جلد پورا کرو اور اسلام کو دنیا کے کونہ کونہ میں پھیلا دو۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وقف جدید کی تحریک پر بھی بہت کم وقت گذرا ہے مگر وہ نتائج جو اب تک وقف جدید کے نکلنے چاہئیں تھے ان کا ہزارواں حصہ بھی نہیں نکلا۔ہم تو یہ خیال کر رہے تھے کہ یہ لوگ جو نہایت قربانی اور اخلاص سے آگے بڑھے ہیں ان کی باتوں میں اور ان کے کام میں اس قدر برکت ہوگی کہ وہ رشد و اصلاح اور تعلیم کے کام کو مہینوں میں لاکھوں اور کروڑوں افراد تک پہنچا دیں گے مگر اب تک اس تحریک کے شاندار نتائج نکلتے نظر نہیں آتے لیکن اللہ تعالیٰ کو تمام طاقتیں حاصل ہیں اگر اللہ چاہے تو وہ اس کو پورا کر سکتا ہے۔ہمیں اللہ تعالیٰ سے دعا کرنی چاہئے کہ وہ ہماری حقیر کوششوں کو بار آور کرے اور ہماری پیدائش کی غرض اور سلسلہ احمدیہ کے قیام کی غرض کو ہمارے ہاتھوں سے جلد سے جلد پورا کرے اور ہم اسلام کے جھنڈے دنیا کے کناروں تک گاڑ دیں تا کہ قیامت کے دن ہم بھی سرخرو ہوں اور رسول کریم ﷺ بھی سارے نبیوں کے سامنے اپنا سینہ تان کر اپنی فضیلت اور برتری کا اظہار فرمائیں اور ان سے کہیں کہ دیکھو تمہاری قوموں نے تو شرک سے ساری دنیا کو بھر دیا تھا مگر میری قوم نے ہر جگہ تو حید کا جھنڈا گاڑ دیا اور لوگوں کو خدائے واحد کے آستانہ پر لا ڈالا۔اگر ایسا ہو جائے تو یہ ہماری انتہائی خوش قسمتی ہوگی اور اس کی وجہ سے ہم قیامت کے دن خدا تعالیٰ کے سامنے سرخرو ہو سکتے ہیں۔(الفضل 29 اپریل 1958ء ص 3،2)