خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 52 of 682

خطبات وقف جدید — Page 52

52 حضرت مصلح موعود کی تائید کرنی شروع کی مگر باوجود اس کے کہ سارا عرب آپ کے مارنے پر تلا ہوا تھا۔آپ اکیلے خدا کے ساتھ جیت گئے اور ہم اپنے 360 دیوتاؤں کے ساتھ ہار گئے کیا اس کے بعد بھی ہم شرک کر سکتی ہیں وہ چونکہ آپ کی رشتہ دار تھی اس لئے آپ نے اس کی آواز کو پہچان لیا اور فرمایا ہندہ ہے؟ وہ عورت بڑی دلی تھی اس نے کہا یا رسول اللہ اب آپ کا مجھ پر کوئی اختیار نہیں۔اب میں کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو چکی ہوں اور خدا تعالی کی پناہ میں آچکی ہوں اور مسلمان ہونے کی وجہ سے میرے سارے پچھلے گناہ معاف ہو چکے ہیں کیونکہ اسلام انسان کے پچھلے سارے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے اب آپ مجھے میرے کسی پچھلے گناہ کی وجہ سے سزا نہیں دے سکتے۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا تم ٹھیک کہتی ہو۔تو دیکھو وہ عورت جو تو حید کی اتنی مخالف تھی کہ مسلمان شہیدوں کے کلیجے دوسروں سے چروا کر کچا چبانے کے لئے تیار ہو جاتی تھی وہ کہتی ہے کہ ہم ایسے بیوقوف تھوڑے ہیں کہ باوجود یہ نمونہ دیکھنے کے کہ آپ اکیلے خدا کے ساتھ غالب آگئے اور ہمارے 360 دیوتا با وجود ساری طاقت اور قوت کے اور باوجود سارے عرب کی مجموعی تائید کے ہار گئے پھر بھی ہم شرک کریں گی؟ اب اس کے بعد تو حید کا کون انکار کر سکتا ہے۔تو دیکھو رسول کریم ﷺ کی صداقت کا یہ کس قدر زبر دست نشان تھا کہ آپ نے اپنی زندگی میں ہی دیکھ لیا کہ تو حید اور اسلام کے شدید ترین دشمن کلمہ پڑھ کر اسلام میں داخل ہو گئے اور پھر انھوں نے قربانیوں کے ایسے شاندار نمونے دکھائے کہ ان کی مثال دنیا کہ پردہ پر نہیں ملتی۔وہی ہندہ جو ایک وقت میں کفار کو اکسایا کرتی تھی کہ مسلمانوں پر حملہ کر وحضرت عمرؓ کے زمانہ میں اس کا خاوند ابوسفیان اور اس کا بڑا بیٹا یزید حضرت ابو عبیدہ کی امارت میں ایک لڑائی میں شامل ہوئے رومیوں کے ساتھ بڑی سخت لڑائی ہوئی اور ایک وقت ایسا آیا جب مسلمانوں کے پاؤں اکھڑ گئے۔مسلمانوں نے اپنی سواریوں کو روکنے کی بڑی کوشش کی مگر وہ نہ رکیں۔آخر وہ پیچھے کی طرف دوڑ پڑے۔جب سپاہی پیچھے کی طرف آرہے تھے تو ہندہ نے مسلمان عورتوں سے کہا کہ آج مر دوں کے قدم اکھڑ گئے ہیں اب وقت ہے کہ عورتیں اپنی بہادری دکھائیں۔انھوں نے کہا ہم کس طرح مقابلہ کریں ہمارے پاس تو کوئی ہتھیار نہیں۔اس نے کہا خیموں کی طنابیں کاٹ دو اور ان کے بانس نکال لو اور بھاگتی ہوئی سواریوں کے مونہوں پر بانس مار کر انھیں پیچھے کی طرف موڑو۔چنانچہ اس نے خود ایک طناب کاٹ دی اور بانس لے کر عورتوں کے آگے آگے مسلمانوں کے لشکر کی طرف بڑھی۔ابوسفیان اور اس کا بیٹا یزید بھی بھاگے ہوئے آرہے تھے اس نے ان کی سواریوں کے مونہوں پر بانس مار کر کہا۔تمہیں شرم نہیں آتی کہ ایک لمبے عرصہ تک تو تم لوگوں نے اسلام کے خلاف لڑائیاں کیں اب اسلام کی خاطر لڑائی کرنے کا موقع آیا ہے تو تم دشمن کے