خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 589 of 682

خطبات وقف جدید — Page 589

589 حضرت خلیق اسم الخامس ید اللہ س ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز گردد کہ مبارک ہے وہ مال جو خدا کے مسیح کے لئے قربان کر دیا جائے۔نیچے خط میں لکھا میرا نوجوان لڑکا طاعون سے فوت ہوا ہے۔میں نے اس کی تجہیز و تکفین کے واسطے مبلغ دوسوروپے تجویز کئے تھے۔جوارسال خدمت کرتا ہوں وہ دوسو روپے تھے جو اس کے لئے رکھے ہوئے تھے اور لڑکے کو اس کے لباس میں دفن کر دیتا ہوں۔یہ ہے وہ اخلاص جو حضرت مسیح موعود نے مریدوں کے دلوں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے تھا جماعت کے لئے تھا، اللہ تعالیٰ کی مرضی چاہنے کے لئے تھا۔قاضی صاحب لکھتے ہیں کہ یہی لوگ تھے جن کو آیت وَ آخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهُمُ - (الجمع :4) کے ماتحت صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا کا مصداق قرار دیا گیا ہے۔( قاضی محمد یوسف فاروقی احمدی۔قاضی خیل رسالہ ظہور احمد موعود صفحہ 70-71 مطبوعہ 30 جنوری 1955 ء) اتنی زیادہ قربانی کی کہیں اور مثال آپ کو نظر نہیں آئے گی۔اگر آئے گی تو یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں ہی نظر آئے گی۔اسی کا یہ خاصہ ہے۔حافظ معین الدین صاحب کی قربانی کا ذکر آتا ہے کہ ان کی طبیعت میں اس امر کا بڑا جوش تھا کہ وہ سلسلے کی خدمت کیلئے قربانی کریں۔خود اپنی حالت ان کی یہ تھی کہ نہایت عسر کے ساتھ گزارا کرتے تھے، نہایت تنگی کے ساتھ گزارا کرتے تھے۔اور معذور بھی تھے ، کام نہیں کر سکتے تھے۔حضرت اقدس کا ایک خادم قدیم سمجھ کر بعض لوگ محبت اور اخلاص کے ساتھ کچھ سلوک ان سے کرتے تھے ان کو کچھ رقم پیش کر دیا کرتے تھے لیکن حافظ صاحب کا ہمیشہ یہ اصول تھا کہ وہ اس روپے کو جو اس طرح ملتا تھا کبھی اپنی ذاتی ضرورت پر خرچ نہیں کرتے بلکہ اس کو سلسلے کی خدمت کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حضور پیش کر دیتے۔اور کبھی کوئی تحریک سلسلے کی ایسی نہ ہوتی جن میں وہ شریک نہ ہوتے ،خواہ ایک پیسہ ہی دیں۔حافظ صاحب کی ذاتی ضروریات کو دیکھتے ہوئے ان کی یہ قربانی معمولی نہ ہوتی تھی۔(اصحاب احمد جلد 13 صفحہ 293) تو یہ ان لوگوں کے چند نمونے ہیں جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کو سنا، سمجھا اور عمل کیا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا مالی قربانی کے سلسلہ میں ایک اقتباس پیش کرتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں کہ: ”میرے پیارے دوستو! میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ مجھے خدائے تعالیٰ نے سچا جوش آپ لوگوں کی ہمدردی کے لئے بخشا ہے اور ایک کچی معرفت آپ صاحبوں کی