خطبات وقف جدید — Page 569
569 حضرت لعليم المس ام اس داد اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز رکھ لیتے تو انہوں نے کہا کہ خدا کا مسیح لکھتا ہے کہ دین کیلئے ضرورت ہے تو پھر اور کس کیلئے رکھ سکتا ہوں۔غرض ڈاکٹر صاحب تو دین کیلئے قربانیوں میں اس قدر بڑھے ہوئے تھے کہ حضرت صاحب کو انہیں روکنے کی ضرورت محسوس ہوئی اور انہیں کہنا پڑا کہ اب آپ کو قربانی کی ضرورت نہیں۔“ ( تقاریر جلسہ سالانہ 1926ء۔انوارالعلوم جلد 9 صفحہ 403) اللہ تعالیٰ ان کی نسلوں کو بھی اسی اخلاص اور وفا کے ساتھ قربانیوں کی توفیق دے۔ان کی نسلیں اب دنیا کے بہت سے ممالک میں پھیلی ہوئی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اخلاص اور وفا میں بہت بڑھے ہوئے بھی ہیں، اللہ تعالیٰ مزید بڑھائے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔میں یقیناً جانتا ہوں کہ خسارہ کی حالت میں وہ لوگ ہیں جو ریا کاری کے موقعوں میں تو صد ہارو پیہ خرچ کریں۔اور خدا کی راہ میں پیش و پس سوچیں۔شرم کی بات ہے کہ کوئی شخص اس جماعت میں داخل ہو کر پھر اپنی خست اور بخل کو نہ چھوڑے۔یہ خدا تعالیٰ کی سنت ہے کہ ہر ایک اہل اللہ کے گروہ کو اپنی ابتدائی حالت میں چندوں کی الله ضرورت پڑتی ہے۔ہمارے نبی ﷺ نے بھی کئی مرتبہ صحابہ پر چندے لگائے۔جن میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سب سے بڑھ کر رہے۔۔۔جو ہمیں مدد دیتے ہیں۔آخر وہ خدا کی مدددیکھیں گے۔“ 66 ( مجموعہ اشتہارات جلد 2 صفحہ 308 اشتہار 4 اکتوبر 1899 ء) جماعت میں بہت سے خاندان اس بات کے گواہ ہیں کہ ان کے بزرگوں کی ایسی قربانیوں اور مدد کی وجہ سے وہ آج مالی لحاظ سے کہیں کے کہیں پہنچے ہوئے ہیں۔اگر ہم اپنی نسلوں کو بھی دینی اور دنیاوی لحاظ سے خوشحال دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں بھی چاہیے کہ قربانیوں کے یہ معیار قائم رکھیں اور قائم رکھتے چلے جائیں اور اپنی نسلوں میں بھی اس کی عادت ڈالیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: پانچواں وسیلہ اصل مقصود کے پانے کے لئے خدا تعالیٰ نے مجاہدہ ٹھیرایا ہے یعنی اپنا مال خدائے تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کے ذریعہ سے اور اپنی طاقتوں کو خدا کی راہ میں خرچ کرنے کے ذریعہ سے اور اپنی جانوں کو خدا کی راہ میں خرچ کرنے کے ذریعہ سے اور اپنی عقل کو خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کے ذریعہ سے اس کو ڈھونڈا جائے