خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 568 of 682

خطبات وقف جدید — Page 568

568 حضرت خلیة السیح الخامس ایده س ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اب کوئی دنیا دار ہو تو اس بات پر ناراض ہو جائے کہ تم روز روز مجھ سے پیسے مانگنے آجاتے ہو۔لیکن یہاں جنھوں نے اگلے جہان کے لئے اور اپنی نسلوں کی بہتری کے سودے کرنے ہیں ان کی سوچ ہی کچھ اور ہے۔اس بات پر نہیں ناراض ہور ہے کہ کیوں پیسے مانگ رہے ہو بلکہ اس بات پر ناراض ہورہے ہیں کہ مجھے قربانی کا موقع کیوں نہیں دیا۔پھر ایک واقعہ حضرت خلیفتہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ چوہدری رستم علی صاحب آف مدار ضلع جالندھر کے بارہ میں کہ وہ کورٹ انسپکٹر تھے ان کی 80 روپے تنخواہ تھی۔حضرت صاحب کو خاص ضرورت دینی تھی۔آپ نے ان کو خط لکھا کہ یہ خاص وقت ہے اور چندے کی ضرورت ہے۔انہی دنوں گورنمنٹ نے حکم جاری کیا کہ جو کورٹ انسپکٹر ہیں وہ انسپکٹر کر دیے جائیں۔جس پر ان کو نیا گریڈ مل گیا اور جھٹ ان کے 80 روپے سے 180 روپے ہو گئے۔اس پر انہوں نے حضرت صاحب کو لکھا کہ ادھر آپ کا خط آیا اور ادھر 180 روپے ہو گئے۔اس لئے یہ اوپر کے سوروپے میرے نہیں ہیں، یہ حضرت صاحب کے طفیل ملے ہیں اس واسطے وہ ہمیشہ سوروپیہ علیحدہ بھیجا کرتے تھے۔“ الفضل 15 مئی 1922 ء صفحہ 2) پھر ایک واقعہ ہے حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب کا۔ان کا تھوڑ اسا تعارف بھی کرا دوں یہ حضرت ام ناصر جو حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی پہلی بیگم تھیں ، ان کے والد تھے اور حضرت خلیفہ اسیح الثالث کے نانا ہوئے۔تو ان کے بارہ میں حضرت مصلح موعودؓ نے لکھا ہے کہ: ” جب انہوں نے ایک دوست سے حضرت مسیح موعود کا دعویٰ سنا تو آپ نے سنتے ہی فرمایا کہ اتنے بڑے دعوی کا شخص جھوٹا نہیں ہو سکتا اور آپ نے بہت جلد حضرت مسیح موعود کی بیعت کر لی۔حضرت صاحب نے ان کا نام اپنے بارہ حواریوں میں لکھا ہے اور ان کی مالی قربانیاں اس حد تک بڑھی ہوئی تھیں کہ حضرت صاحب نے ان کو تحریری سند دی کہ آپ نے سلسلہ کیلئے اس قدر مالی قربانی کی ہے کہ آئندہ آپ کو قربانی کی ضرورت نہیں۔حضرت مسیح موعود کا وہ زمانہ مجھے یاد ہے جب کہ آپ پر مقدمہ گورداسپور میں ہورہا تھا اور اس میں روپیہ کی ضرورت تھی۔حضرت صاحب نے دوستوں میں تحریک بھیجی کہ چونکہ اخراجات بڑھ رہے ہیں لنگر خانہ دو جگہ پر ہو گیا ہے۔ایک قادیان میں اور ایک یہاں گورداسپور میں اس کے علاوہ اور مقدمہ پر خرچ ہو رہا ہے لہذا دوست امداد کی طرف توجہ کریں۔جب حضرت صاحب کی تحریک ڈاکٹر صاحب کو پہنچی تو اتفاق ایسا ہوا کہ اسی دن ان کو تنخواہ قریباً چار سو پچاس روپے ملی تھی۔وہ ساری کی ساری تنخواہ اسی وقت حضرت صاحب کی خدمت میں بھیج دی۔ایک دوست نے سوال کیا کہ آپ کچھ گھر کی ضروریات کیلئے