خطبات وقف جدید — Page 562
562 حضرت علیه مسح الخمس ايد العالی بنصرہ العزیز نیکی کو نہیں پا سکو گے جب تک کہ تم مال سے خرچ نہ کرو۔مِمَّاتُحِبُّونَ کے معنے میرے نزدیک مال ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَإِنَّهُ لِحُبِّ الْخَيْرِ لَشَدِيدٌ (العادیات:9) انسان کو مال بہت پیارا ہے۔پس حقیقی نیکی پانے کے لئے ضروری ہے کہ اپنی پسندیدہ چیز مال میں سے خرچ کرتے رہو۔“ حقائق الفرقان جلد اول صفحه 500) ایک روایت ہے حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے۔کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کے حوالے سے یہ حدیث بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ : ”اے آدم کے بیٹے تو اپنا خزانہ میرے پاس جمع کر کے مطمئن ہو جا، نہ آگ لگنے کا خطرہ ، نہ پانی میں ڈوبنے کا اندیشہ اور نہ کسی چور کی چوری کا ڈر۔میرے پاس رکھا گیا خزانہ میں پورا تجھے دوں گا اس دن جبکہ تو اس کا سب سے زیادہ محتاج ہو گا۔(طبرانی) دیکھیں کتنا سستا سودا ہے۔آج اس طرح خزا نے جمع کروانے کا کسی کو ادراک ہے شعور ہے تو صرف احمدی کو ہے۔وہ جو اللہ تعالیٰ کی اس تعلیم کو سمجھتا ہے کہ وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنْتُمْ لَا تُظْلَمُونَ (البقره: (272) تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، اللہ میاں کے دینے کے بھی کیا طریقے ہیں کہ جو اچھا مال بھی تم اس کی راہ میں خرچ کرو گے وہ تمہیں پورا پورا لوٹائے گا۔بلکہ دوسری جگہ فرمایا کہ کئی گنا بڑھا کر لوٹایا جائے گا۔تم سمجھتے ہو کہ پتہ نہیں اس کا بدلہ ملے بھی کہ نہ ملے۔فرمایا اس کا بدلہ تمہیں ضرور ملے گا بلکہ اس وقت ملے گا جب تمہیں اس کی ضرورت سب سے زیادہ ہوگی تم اس کے سب سے زیادہ محتاج ہو گے۔اس لئے یہ وہم دل سے نکال دو کہ تم پر کوئی ظلم ہوگا۔ہرگز ہرگزتم پر کوئی ظلم نہیں ہوگا۔لوگ دنیا میں رقم رکھنے سے ڈرتے ہیں۔بینک میں بھی رکھتے ہیں تو اس سوچ میں پڑے رہتے ہیں کہ بینکوں کی پالیسی بدل نہ جائے۔منافع بھی میرا کم نہ ہو جائے۔اور بڑی بڑی رقوم ہیں۔کہیں یہ تحقیق شروع نہ ہو جائے کہ رقم آئی کہاں سے۔اور فکر اور خوف اس لئے دامن گیر رہتا ہے ، اس لئے ہر وقت فکر رہتی ہے کہ یہ جو رقم ہوتی ہے دنیا داروں کی صاف ستھری رقم نہیں ہوتی ، پاک رقم نہیں ہوتی بلکہ اکثر اس میں یہی ہوتا ہے کہ غلط طریقے سے کمایا ہوا مال ہے۔گھروں میں رکھتے ہیں تو فکر کہ کوئی چور چوری نہ کر لے، ڈاکہ نہ پڑ جائے۔پھر بعض لوگ سود پر قرض دینے والے ہیں۔کئی سو روپے سود پر قرض دے رہے ہوتے ہیں۔لیکن چین پھر بھی نہیں ہوتا۔سندھ میں ایک ایسے ہی شخص کے بارہ میں مجھے کسی نے بتایا کہ غریب اور بھو کے لوگوں کو جو قحط سالی ہوتی ہے لوگ بیچارے آتے ہیں اپنے ساتھ زیور وغیرہ ، سونا وغیرہ لاتے ہیں، ایسے سودخوروں سے رقم لے لیتے ہیں، اپنے کھانے پینے کا انتظام کرنے کے لئے اور اس پر سود پھر اس حد تک زیادہ ہوتا ہے کہ وہ قرض