خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 561 of 682

خطبات وقف جدید — Page 561

561 ا ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز خطبه جمعه فرموده 9 جنوری 2004 ء بیت الفتوح لندن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ ط وَ مَا تُنْفِقُوا مِنْ شَيْءٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيْمٌ - (آل عمران:93) حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جود و بڑی تحریکات جاری فرمائی تھیں ان میں سے ایک وقف جدید کی تحریک ہے۔وقف جدید کا سال یکم جنوری سے شروع ہوتا ہے اور 31 دسمبر کو ختم ہوتا ہے اور 31 دسمبر کے بعد کے خطبے میں عموم وقف جدید کے نئے سال کا اعلان کیا جاتا ہے اور خطبہ جمعہ میں عموماً جماعت نے جو سال کے دوران مالی قربانی کی ہوتی ہے اس کا ذکر ہوتا ہے۔1957ء میں حضرت مصلح موعودؓ کے ہاتھوں جاری کردہ یہ تحریک زیادہ تر پاکستان کی جماعتوں سے تعلق رکھتی تھی یا کچھ حد تک ہندوستان میں۔1985ء میں حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس کو تمام دنیا میں جاری فرما دیا اور بیرونی جماعتوں نے بھی اس کے بعد بڑھ چڑھ کر اس تحریک میں حصہ لینا شروع کیا اور قربانیاں دیں۔آج کے جمعہ سے پہلے بھی ایک جمعہ گزر چکا ہے اس مہینہ میں لیکن چونکہ مختلف ممالک سے رپورٹس آنی ہوتی ہیں تا کہ جائزہ پیش کیا جا سکے اس لئے گزشتہ جمعہ میں اس کا اعلان نہیں ہوا آج اس کا اعلان کیا جائے گا انشاء اللہ۔لیکن اس جائزے اور اعلان کرنے سے پہلے میں مالی قربانیوں کے ضمن میں کچھ عرض کروں گا۔یہ آیت جو میں نے تلاوت کی ہے اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم ہرگز نیکی کو پانہیں سکو گے یہاں تک کہ تم ان چیزوں میں سے خرچ کرو جن سے تم محبت کرتے ہو۔اور تم جو کچھ بھی خرچ کرتے ہو تو یقیناً اللہ اس کو خوب جانتا ہے۔حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ نے اس کی تفسیر بیان کی ہے۔فرمایا: لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ۔قرآن کریم میں سورۃ بقرہ میں جہاں پہلا رکوع شروع ہوتا ہے وہاں منتقی کی نسبت فرمایا ہے وَ مِمَّا رَزَقْنهُمْ يُنْفِقُونَ یعنی جو کچھ اللہ نے دیا ہے اس سے خرچ کرتے ہیں۔یہ تو پہلے رکوع کا ذکر ہے۔پھر اسی سورۃ میں کئی جگہ انفاق فی سبیل اللہ کی بڑی بڑی تاکید میں آئی ہیں۔پس تم حقیقی