خطبات وقف جدید — Page 556
556 حضرت خلیفتہ المسح الرابع اب میں تحریک جدید کے نئے سال کا بھی مختصر ذکر کرتا ہوں۔تحریک جدید کے نئے سال کا آغاز یکم نومبر سے ہو چکا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے میری ہدایت پر جماعتوں نے نئے سال کے وعدہ جات بھی لینے شروع کر دیئے ہیں۔تاہم یہ روایت چونکہ چلی آرہی ہے کہ نیا سال شروع ہونے پر پچھلے سال کا جائزہ بھی پیش کیا جاتا ہے اس لئے وقف جدید کے نئے سال کا اعلان کرتے ہوئے آج تحریک جدید کے گزشتہ سال کے اعداد و شمار کا بھی مختصر ذکر کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے 126 ممالک نے اس میں شمولیت کی توفیق پائی ہے۔موصولہ رپورٹوں کے مطابق 31 اکتوبر 2002 ء تک جماعتہائے احمد یہ عالمگیر کی کل وصولی 24لاکھ 52 ہزار 3 سو پاؤنڈ ہے۔یہ وصولی گزشتہ سال کی وصولی سے 3 لاکھ پاؤنڈ زیادہ ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے تحریک جدید کے مالی نظام میں شامل ہونے والوں کی تعداد 3 لاکھ 54 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔اللہ کے فضل سے پاکستان امسال بھی نمایاں قربانی پیش کرتے ہوئے پوری دنیا کی جماعتوں میں اول آنے کا اعزاز برقرار رکھے ہوئے ہے اور وہاں کی مقامی جماعتوں کے لحاظ سے لا ہوراول ، ربوہ دواور کراچی نمبر تین ہے۔پھر بالترتیب راولپنڈی، اسلام آباد، حیدرآباد، میر پور خاص، اوکاڑہ ، سرگودہا اور جہلم کی جماعتیں ہیں۔جماعت امریکہ نے بھی امسال اللہ کے فضل سے نمایاں قربانی کی توفیق پائی ہے اور پاکستان کے باہر کے ممالک میں دنیا بھر کی جماعتوں میں اول آنے کا اعزاز برقرار رکھا ہے۔مجموعی لحاظ سے بالترتیب پہلی دس جماعتیں یہ ہیں :۔پاکستان ، امریکہ ، جرمنی، برطانیہ، کینیڈا ،انڈونیشیا ، ہندوستان ، ماریشس ، سوئٹزرلینڈ، آسٹریلیا اور سعودی عرب۔اب میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ امیر صاحب جرمنی نے ملاقات کے دوران اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ میں جرمنی کے چندوں کے متعلق بھی وہ بات کروں۔خاص طور پر ایک شخص کے متعلق انہوں نے بتایا کہ وہ چندوں میں بہت ہی وسعت سے خرچ کرنے والا ہے لیکن ایک کمزوری ہے کہ وہ اپنے بیوی بچوں کی طرف سے بھی خود ہی چندہ ادا کرتا ہے۔اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بیوی بچوں کو خود قربانی کی عادت نہیں پڑتی۔سارا چندہ وہ باپ دے دیتا ہے تو بچوں کا بھی وہی اور خاوند دیتا ہے تو بیوی کیلئے بھی وہی چندہ ہے۔تو وہ یہ بات کہہ رہے تھے اور یہ ٹھیک ہے کہ چندہ کے وقت بیوی اور بچوں سے چندہ لینا چاہیے۔جو خرچ ان کو دیا جاتا ہے اس میں سے چندہ وصول کرنا چاہیے۔تب بچپن سے ہی ان کو خدا کی راہ میں خرچ کرنے کی عادت پڑ جائے گی۔مجھے یاد ہے کہ بچپن میں ہماری والدہ یہی کیا کرتی تھیں۔اس زمانے کے