خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 533 of 682

خطبات وقف جدید — Page 533

533 حضرت خلیفہ امسیح الرابع خطبه جمعه فرموده 5 جنوری 2001 ء بیت الفضل لندن) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا۔امِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُوْلِهِ وَأَنْفِقُوا مِمَّا جَعَلَكُمْ مُّسْتَخْلَفِينَ فِيْهِ طَ فَالَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَانْفَقُوا لَهُمْ أَجْرٌ كَبِيرٌ - (الحديد: 8) اس کا سادہ ترجمہ یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور خرچ کرو اس میں سے جس میں اس نے تمہیں جانشین بنایا۔پس تم میں سے وہ لوگ جو ایمان لے آئے اور (اللہ تعالیٰ کی راہ میں ) خرچ کیا ان کیلئے بہت بڑا اجر ہے۔اسی انفاق فی سبیل اللہ کے سلسلہ میں میں نے کچھ حدیثیں اور کچھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اقتباسات جمع کئے ہیں یہ اس لئے کہ آج وقف جدید کے نئے سال کا اعلان ہونا ہے اس لئے آیات بھی وہی ہیں جن کا انفاق فی سبیل اللہ سے تعلق ہے، اقتباسات بھی وہی ہیں جن کا انفاق فی سبیل اللہ سے تعلق ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کوئی بھی دن لوگوں پر ایسا نہیں چڑھتا کہ جس میں دو فرشتے نہ اترتے ہوں ان میں سے ایک کہتا ہے اے اللہ خرچ کرنے والے کو مزید دے جبکہ دوسرا کہتا ہے اے اللہ تو روک رکھنے والے کو بربادی دے کیونکہ جو خدا کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ، روک رکھتے ہیں، انکے مال برباد کر دے۔ایک روایت بخاری کتاب الزکوۃ سے حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ہ ہ ہ میں صدقہ کا حکم دیتے تھے۔ہم میں سے بعض بازار چلے جاتے اور بار برداری اور مد ( یعنی ماپنے کا پیمانہ ) کے برابر کماتے اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرتے اور اس کے نتیجہ میں آج یہ حال ہے کہ ان لوگوں میں سے بعضوں کے پاس لاکھوں ہے۔تو اللہ اپنی راہ میں خرچ کرنے والے کو صرف آخرت میں نہیں ، اس دنیا میں بھی جزا عطا فرماتا ہے اور یہ تو ہم نے بارہا مشاہدہ کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر نیوالوں کے اموال میں اس دنیا میں بہت برکت پڑتی ہے۔اپنے فارسی منظوم کلام میں سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔اس کا