خطبات وقف جدید — Page 44
44 حضرت مصلح موعود انتظار رہے گا کہ نہ معلوم وہ کب تک سب مقامات کا دورہ کر کے واپس آتا ہے لیکن اگر ملک کے مختلف سیکشن مقرر ہوں تو نگرانی میں بڑی آسانی ہوسکتی ہے مثلاً پشاور والے نگرانی کا کام سنبھال لیں تو وہ مردان ایک ہی دن میں جا کر واپس آسکتے ہیں۔نوشہرہ سے بھی اسی دن واپس آسکتے ہیں راولپنڈی بھی ایک دن میں آجا سکتے ہیں۔1956ء میں جب ہم مری میں تھے تو ایک دفعہ ہم نے ایک پہاڑی مقام پر سیر کے لئے جانے کا ارادہ کیا اور چاہا کہ وہاں دُنبہ پکا کر لے چلیں۔کیپٹن محمد سعید صاحب جو ان دنوں وہاں ہوتے تھے ان کو ہم نے بھیجا کہ وہ کہیں سے اچھا سا دُنبہ تلاش کر کے لے آئیں جب وہ دُنبہ لے کر واپس آئے تو انھوں نے بتایا کہ یہاں چونکہ اچھا دنبہ نہیں ملتا تھا اس لئے میں پشاور چلا گیا تھا اور وہاں سے دنبہ لے آیا۔تو پشاور سے راولپنڈی تک آنا جانا بڑا آسان ہے۔پس پشاور والے اگر ہمت کریں تو ان کا انسپکٹر مردان ، نوشہرہ ، راولپنڈی ، ایبٹ آبا داور مری وغیرہ کی آسانی سے نگرانی کر سکتا ہے بلکہ اب تو ایبٹ آباد میں بھی اتنے احمدی ہیں کہ ممکن ہے کہ وہی اپنے ارد گرد کے علاقہ کو سنبھال لیں۔اسی طرح ملتان کی جماعت ایک بڑی ہوشیار جماعت ہے اگر وہ توجہ کرے تو ممکن ہے کہ وہ بھی کئی ضلعے سنبھال لے مثلاً منٹگمری ہے ، اوکاڑہ ہے ، میاں چوں ہے، چیچہ وطنی ہے۔چیچہ وطنی کا نام آنے پر مجھے ایک لطیفہ یاد آ گیا ایک دفعہ میں کراچی آرہا تھا جب گاڑی چیچہ وطنی پہنچی اور وہاں کے دوست ملاقات کے لئے آئے تو ایک عورت نے جلدی جلدی میرے کوٹ کی جیب میں جلیبیاں ڈال دیں۔میری بیوی نے اسے روکا تو وہ کہنے لگی حضرت صاحب نے کچھ کھایا نہیں ہوگا اور راستہ میں ان کو بھوک لگے گی اس لئے میں نے ان کی جیب میں جلیبیاں ڈال دی ہیں تا کہ وہ راستہ میں کھاتے جائیں۔میں نے یہ واقعہ خطبہ میں بیان کر دیا اور کہا کہ میرے کوٹ کا تو ستیاناس ہو گیا اور اس کا ناشتہ ہو گیا چنانچہ اگلے سال جب وہاں کی جماعت آئی تو انھوں نے اس واقعہ پر معذرت کی اور اس عورت نے بھی معافی مانگی۔پھر کبیر والا ہے شورکوٹ ہے، یہ تمام علاقہ ایسا ہے جس کو ملتان کی جماعت سنبھال سکتی ہے۔اس کے بعد دو چار مرکز جور بوہ کے ارد گر درہ جائیں گے انکی نگرانی خود دفتر اچھی طرح کر لے گا۔بہر حال اس وقت بعض بڑی جماعتوں کی خدمات کی ہمیں نگرانی کا کام سرانجام دینے کے لئے ضرورت ہے تا کہ کم سے کم خرچ پر زیادہ سے زیادہ کام ہو سکے۔اس وقت تک جور پورٹیں آرہی ہیں وہ خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت خوشکن ہیں جو وفد بہاولپور ڈویژن کی طرف گیا تھا اس کے کام کا یہ اثر ہوا ہے ایک گریجویٹ کے متعلق وہاں کے امیر کی چٹھی آئی ہے کہ اس نے بیعت کر لی ہے۔یہ دوست سلسلہ کے لٹریچر کا دیر سے مطالعہ کر رہے تھے اور وقف جدید کے معلم