خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 485 of 682

خطبات وقف جدید — Page 485

485 حضرت خلیفہ مسیح الرابع سال بعد تک ان کا کل چندہ سارے امریکہ کا اتنا ہی تھا جتنا آج وقف جدید کا ہے اور جب انھوں نے بتایا تو میں نے فوراً پوچھا میں نے کہا مجھے تو جہاں تک یاد پڑتا ہے نولا کھ چھتیس ہزار ڈالر آپ کا کل چندہ بھی نہیں تھا تو پھرا میر صاحب نے اس کو باقاعدہ جائزہ لے کر اعداد و شمار کا اس بات کی تائید کی ہے ، اس کی توثیق فرمائی ہے کہ ہمارا کل چندہ دس سال پہلے اتنا نہیں تھا۔اور یہ تو فیق کیسے بڑھی۔سوال یہ ہے کہ یہی لوگ تھے، اسی قسم کے لوگ تھے جو پہلے بھی امریکہ میں رہا کرتے تھے مالی حالات بعض دفعہ ضروری نہیں کہ ہمیشہ وقت کے ساتھ آگے بڑھیں بعض دفعہ پیچھے بھی چلے جاتے ہیں چنانچہ ڈاکٹر جو وہاں سب سے زیادہ امیر طبقہ ہے ان کے مالی حالات پہلے سے خراب ہوئے ہیں ایک زمانے میں تو امریکہ میں ڈاکٹر ہونا سونے کی کان کا مالک ہونا تھا لیکن اب بہت سی تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں ڈاکٹروں کی آمد میں کمی آئی ہے لیکن ان کے چندوں میں اضافہ ہوا ہے تو جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک عمومی سا وعدہ تھا کہ ہم بڑھائیں گے اب یہ نکتہ بھی سمجھ آیا کہ تمہاری توفیق مالی ہی نہیں بڑھائیں گے بلکہ تمہارے حوصلے بھی بڑھائیں گے اپنی راہ میں خرچ کرنے کی توفیق میں وسعت دیں گے اور کبھی بھی تمہیں پیچھے نہیں جانے دیں گے، جو تم آگے قدم اٹھا چکے ہو اس سے اور آگے بڑھو گے واپسی کی طرف نہیں دھکیلے جاؤ گے اور کوئی ایسے حالات پیدا نہیں ہوں گے جو تمہیں مجبور کر دیں کہ پہلے سے کم ہو جاؤ تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ جو خدا کا سلوک ہے دنیا کی ہر اس جماعت سے ہے جو مالی قربانی میں آگے بڑھتی ہے ، حوصلہ کرتی ہے اور اچانک اسکی تو فیق بڑھ جاتی ہے۔اب جہاں تک تفصیلات کا تعلق ہے سب تفاصیل تو اس وقت پیش کرنا پیش نظر نہیں ہے مگر مختصر موازنہ میں عرض کرتا ہوں ، گزشتہ سال 1995ء میں پانچ لاکھ ستر ہزار سات سو نوے پاؤنڈ کا وعدہ تھا امسال 1996ء میں چھ لاکھ پچپن ہزار ایک سو بہتر پاؤنڈ کا وعدہ تھا۔وعدہ کے لحاظ سے اضافہ ستر ہزار تین سو بیاسی پاؤنڈ ہوا، وصولی کے لحاظ سے گزشتہ سال چھلا کھ ستر ہزار نوسوتیرہ پاؤنڈ کی وصولی تھی۔امسال خدا کے فضل سے دس لاکھ چورانوے ہزار تین سو اکسٹھ پاؤنڈ کی وصولی ہے۔جس میں سب سے زیادہ حصہ امریکہ نے لیا۔تعداد کے لحاظ سے بھی بہت برکت ملی ہے۔میں پہلے بھی بارہا عرض کر چکا ہوں کہ وقف جدید کے تعلق میں تعداد بڑھانے کی طرف توجہ بہت زیادہ دیں۔مالی ضرورتیں جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ثابت بھی کر کے دکھایا ہے اللہ تعالیٰ آپ ہی کچھ کرتا رہتا ہے۔ہمیں تو پتہ بھی نہیں لگتا یاد دہانی کراؤ نہ کراؤ اب تو یہ حال ہو گیا ہے از خودہی دلوں میں ایسی تحریک اُٹھ جاتی ہے اور انتظامیہ کو خدا تعالیٰ ایسی ہمت عطا فرما دیتا ہے کہ چندے کی جتنی ضرورت ہے وہ مل ہی