خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 467 of 682

خطبات وقف جدید — Page 467

467 حضرت خلیفہ مسیح الرابع احمدیہ کا ہر آنے والا سال گزرے ہوئے سال سے لازماً بہتر ہوتا چلا جاتا ہے۔یہ ناممکن ہے کہ جماعت احمدیہ پر کوئی ایسا سال طلوع کرے جو پچھلے سالوں سے کسی طرح نیکیوں میں پیچھے رہ جائے ، وہ ضرور آگے صلى الله بڑھتا ہے اور اس کا تعلق حضرت اقدس محمد مصطفی ماہ سے براہ راست ہے کیونکہ آپ کے ساتھ خدا تعالیٰ نے ایک وعدہ فرمایا ہے اور وہ وعدہ ہر اس شخص کے حق میں اور ہر اس جماعت کے حق میں لازماً پورا ہوگا جو صلى الله حضرت محمد رسول اللہ ﷺ سے اپنا ذاتی تعلق پختہ کر لیتا ہے یا کر لیتی ہے۔وہ وعدہ ہے وَ لَلْآخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الأولى تیرے لئے یہ قانون ہے جو اٹل ہے اسمیں کوئی تبدیلی نہیں، تیرا ہر آنے والا لمحہ ہر گزرے ہوئے لحہ سے بہتر ہوگا۔اس کے باوجود آپ کی زندگی میں ابتلا بھی آئے ، کئی قسم کی آزمائشوں میں مبتلا ہوئے، جسمانی آزار بھی پہنچائے گئے مگر یہ وعدہ پھر بھی پورا ہوتا رہا۔کوئی ایذارسانی ، کوئی رستے کی روک آپ کے اور آپ کی جماعت کے قدم آگے بڑھنے سے روک نہیں سکی۔پس یہ مراد نہیں ہے کہ وقتی تکلیفیں نہیں آئیں کی مراد یہ ہے کہ دشمن جو چاہے کر لے ناممکن ہے کہ تیرے آنے والے لمحات کو گزرے ہوئے لمحات سے بدتر کر کے دکھا دے۔وہ لازماً زیادہ شان سے چمکیں گے ، لازماً ان کو زیادہ رفعتیں عطا ہونگی۔پس جماعت احمدیہ (میں نے ان سے مختصر یہ کہا ویسے تو تفصیل سے مضمون بیان کر رہا ہوں مگر اس وقت میں نے ان کو اس معاملے میں کہا کہ اس بات کی ایک زندہ مثال موجود ہے اور یہ بھی ثابت کرتی ہے کہ ہمارا تعلق اس رسول سے ہے) جس کے حق میں یہ وعدہ فرمایا گیا تھا اور ہمارے حق میں وہ وعدہ پورا ہورہا ہے اور دوسری جماعتوں کے حق میں نہیں ہورہا۔اسلئے اللہ بہتر جانتا ہے کہ کس کا رسول سے تعلق ہے کس کا نہیں ہے۔جب وہ وعدے پورے کرتا ہے تو کھول دیتا ہے اس بات کو کہ جن کا تعلق ہے وہ کوئی لگی چھپی بات نہیں ہے۔ان لوگوں میں وہ وعدے پورے ہوتے دیکھو گے جو میں نے اپنے پیارے رسول سے کئے تھے۔پس جماعت احمدیہ کی مالی قربانیاں ایک حیرت انگیز صداقت کا نشان ہیں اور اخلاص کے بغیر اور محبت کے بغیر ممکن نہیں ہے اسلئے لوگ لاکھ طعنے دیں کہ جی یہ تو چندے کی باتیں کرتے ہیں لیکن آپ اس حقیقت پر پوری طرح قائم رہیں۔آپ کی سچائی کا قدم ملنا نہیں چاہئے اس حقیقت سے کہ آپ جو خدا کی راہ میں پیش کرتے ہیں وہ چٹی نہیں ہے وہ محبت کے رشتے ہیں ، محبت کے اطوار ہیں جو از خود آپ کو خدمت دین پر یعنی مالی خدمت پر مجبور کرتے چلے جاتے ہیں کوئی بیرونی دباؤ نہیں ہے۔ہاں نفس کی اپنی ایک تمنا ہے کہ وہ جس نے سب کچھ دیا ہے ہم بھی تو اسکی راہ میں کوئی تحفہ پیش کریں جسے وہ قبول کرے اور ہماری ادنی پیش کش کے مقابلے پر محبت کا سودا ہو اس کے پیار کی نظریں ہم پر پڑنے لگیں۔اس پہلو سے وقف جدید بھی کوئی مستی نہیں۔ساری دنیا میں جماعت احمد یہ جو ہر قسم کے چندے