خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 466 of 682

خطبات وقف جدید — Page 466

466 حضرت خلیفة المسیح الرابع سال قربانی کرنے والا آگے بڑھتا جاتا ہے۔وہ شخص جسکو قربانی کرتے ہوئے تکلیف محسوس ہو وہ دو چار سال چلے گا اسکے بعد تھک کے رہ جائے گا۔کہے گا بس کافی ہوگئی جو دینا تھا دے دیا اب نہ ہمارے دروازے کھٹکھٹائے جائیں۔اور جن کو یعنی جماعت احمدیہ کے جن مخلصین کو خدا کی راہ میں قربانی کی عادت ہے اگر سیکرٹری مال ان کے دروازے کھٹکھٹانا چھوڑ دے تو وہ جا جا کے دروازے کھٹکھٹاتے ہیں۔کہتے ہیں کیا بات ہوگئی تم ہم سے چندہ لینے نہیں آئے اور دیکھو اگر اس طرح سنتی کی تو پھر ہوسکتا ہے کہ ہم سے غفلت ہو جائے اور پھر یہ روپیہ کہیں اور خرچ ہو جائے۔اور جو ان سے بھی آگے سبقت لے جانے والے ہیں وہ سوچ بھی نہیں سکتے کہ یہ روپیہ جو خدا کے لئے وقف کیا ہے کسی اور جگہ خرچ ہو جائے گا۔وہ یہ دیکھتے ہیں کہ وہ روپیہ جو ہم نے فلاں غرض کے لئے رکھا ہوا تھا کیوں نہ خدا کی راہ میں خرچ کر دیں کیونکہ پھر توفیق ملے نہ ملے۔اور ایسے واقعات بڑی کثرت سے ہر سال ہوتے ہیں اور بڑی کثرت سے خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ جو فضل کی صورت میں ان معنوں میں ہے کہ ہم بڑھانے والے ہیں ، یہ بھی پورا ہوتا چلا جاتا ہے۔ایسے حیرت انگیز واقعات آئے دن میرے سامنے آتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ایک آدمی نے وعدہ کیا ہے معین طور پر وہ وعدہ کرتے وقت پوری طرح دل کو اطمینان نہیں ہے کہ میں پورا بھی کر سکوں گا مگر اخلاص تھا ہمت تھی وہ وعدہ کر دیا اور پھر دعا کی کہ اللہ اسے پورا کرنے کے سامان فرمائے۔پھر جس طرح غیب سے وہ سامان پیدا ہوتے ہیں اور بسا اوقات بعینہ اتنی رقم اچانک ملتی ہے جو وعدہ کی گئی تھی یعنی اگر کسی نے 7572 روپے کا وعدہ کیا تھا تو خدا تعالیٰ یقین دلانے کی خاطر کہ یہ میں نے خصوصیت سے تمہارے اخلاص کو قبول کرتے ہوئے اسلئے دی ہے کہ تم اپنا تحفہ مجھے پیش کر سکو اور جو رقم ملتی ہے 7572 روپے ہی ہوتی ہے۔اب یہ جو واقعات ہیں یہ جماعت احمدیہ کی تاریخ میں ایک زندہ اور جاری اور ساری حقیقت بن چکے ہیں کوئی ماضی کے قصے نہیں ہیں۔جیسے کل تھے ویسے آج بھی ہیں۔جیسے آج ہیں ویسے کل بھی ہونگے اور یہ نشان صداقت اور عظمت کا نشان سوائے جماعت احمدیہ کے دنیا میں اور کسی جماعت کو عطا نہیں ہوا۔پھر وہ لطف ایسا محسوس کرتے ہیں جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے کہ وہ ہر سال ہر آنے والے وقت میں قربانی میں پہلے سے بڑھ جاتے ہیں۔صاف ثابت ہے کہ وہ محبت ہی کے نتیجے میں خرچ کر رہے ہیں چٹی والے تو ایسا نہیں کیا کرتے۔کل جو لقاء مع العرب کا پروگرام تھا اس میں منیر ادبی صاحب نے مجھ سے ایک سوال کیا کہ نئے سال کی باتیں ہو رہی ہیں پرانا سال جارہا ہے لوگ خوشیاں منا رہے ہیں۔جماعت احمدیہ کا کیا موقف ہے۔اس میں جومیں نے تفصیل سے ان کو موقف سمجھایا، کل ایک یہ بات بھی ان کو سمجھائی کہ جماعت