خطبات وقف جدید — Page 463
463 حضرت خلیفتہ مسیح الرابع آنہیں سکتی لیکن پھر بھی ڈر جاتے ہو تم بڑے بیوقوف ہو۔شیطان جس کا کوئی تعلق بھی نہیں تمہارے رزق سے ، ہاں بعض صورتوں میں تعلق تم خود بنا لیتے ہو جب نا جائز رزق کماتے ہو تو پھر شیطان کا تم پر دخل ہوتا ہے مگر اللہ نے یہاں نا جائز رزق کی بات ہی نہیں شروع کی۔فرمایا ہے جو تم کماتے ہو طیبات میں سے تو یہاں اس گروہ کی بات ہو رہی ہے جو نا جائز نہیں کمار ہے۔جو نا جائز کمانے والے ہیں ان سے تو اللہ مانگتا ہی نہیں کبھی۔کب خدا نے کہا ہے کہ اپنی حرام کی کمائیوں میں سے مجھے پیش کرو۔وہ بحث میں شامل ہی نہیں مضمون۔پس جن کو خدا نے دیا ہے شیطان نے نہیں دیا وہ بڑے بے وقوف ہونگے اگر شیطان کے ڈرانے سے ڈر جائیں اور خدا کی راہ میں جس نے انکو عطا فرمایا ہے خرچ کرنے سے پیچھے ہٹ جائیں اور شیطان اسکے ساتھ کیا کہتا ہے۔یہ بہت ہی گہر انفسیاتی مضمون ہے کہ فقر سے ڈراتا ہے لیکن فحشا کا حکم دیتا ہے اور فحشا وہ زندگی ہے جس میں انسان کو بے حد خرچ کرنا پڑتا ہے اور شیطان کا جھوٹا ہونا اسی سے ثابت ہو جاتا ہے کہ تمہیں فقر سے ڈراتے ہوئے ایسی باتوں کے شوق لگا دیتا ہے ایسی تمناؤں کو بھڑکا دیتا ہے جو بہت مہنگی ہوتی ہیں اور تمہاری زندگی کی عام ضرورتوں کو پورا کرنے کے بعد جو کچھ بچتا ہے اس سے زیادہ خرچ کر وتب بھی تمہاری وہ خواہشیں جو فحشا سے تعلق رکھتی ہیں پوری نہیں ہوسکتیں۔تو شیطان کی دھوکہ بازی اور اس انسان کی جو اس دھو کے میں آئے ان کی عقل کا پورا پول کھل جاتا ہے اس سے۔اگر وہ تمہارا پیسہ بڑھانا چاہتا ہے تو فحشا کی طرف کیوں لگاتا ہے تمہیں۔کیوں کہتا ہے کہ بہت مہنگی کاریں خرید و تو پھر تمہیں تسکین ملے گی کیوں کہتا ہے کہ اعلیٰ سے اعلیٰ عیاشی کے سامان مہیا کرو یا حاصل کرو تب تمہیں صحیح زندگی کا سکون ملے گا اور ایک دوسرے سے دکھاوے میں آگے بڑھو ، ایسے اخراجات کرو جس سے تمہاری ظاہری طور پر قوم میں یا برادری میں ناک قائم رہ جائے اور اندر سے سب کچھ کٹ جائے اور سب کچھ ختم ہو جائے۔یہ تعلیم جو فحشا کی تعلیم ہے یہ ثابت کر رہی ہے کہ شیطان کو تمہارے اموال میں کوئی دلچسپی نہیں ہے تمہارے حق میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، وہ تمہارا دشمن ہے اور دشمنوں والے وساوس میں تمہیں مبتلا کر دیتا ہے۔اللہ اس کے مقابل پر کیا کہتا ہے شیطان تمہیں فقر کا اور فحشا کا حکم دیتا ہے اور اللہ فرماتا ہے۔يَعِدُ كُم مَّغْفِرَةً مِّنْهُ وَ فَضْلًا اور اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے مغفرت کے وعدے کرتا ہے۔پس انفاق فی سبیل اللہ کا تعلق ایک مغفرت سے بھی ہے اور یہ بہت ہی اہم تعلق ہے جس کو آخر پر بیان فرمایا ہے وہ پہلے تعلقات جومیں نے بیان کئے ہیں قرآن کریم کی اس آیت کی روشنی میں ان پر یہ مستزاد ہے کہ یا درکھو وہ تمہیں چیزیں تو ملیں گی ہی مگر تم اتنے گنہگار ہو کہ اگر محض نیکیوں اور گناہوں کا آپس میں حساب تکڑی کے تول کیا جائے تو تمہاری بخشش کے سامان بہت مشکل ہیں۔اور یہ امر واقعہ ہے کہ اگر با قاعدہ ناپ تول کر