خطبات وقف جدید — Page 459
459 حضرت خلیفتہ المسیح الرابع پاکستان اور ہندوستان کے علاوہ دیگر جماعتوں کو بھی دفتر اطفال کا ریکارڈ رکھنا چاہیے۔یہ اس سلسلے میں آخری نصیحت ہے آج کے خطبے میں۔وقف جدید کا جو اطفال کا ریکارڈ ہے وہ پاکستان ، ہندوستان ، بنگلہ دیش میں رکھا جاتا ہے مگر دوسرے ملکوں میں نہیں رکھا جاتا اور ہم چاہتے ہیں کہ بچے بہت زیادہ اس میں حصہ لیں۔جس طرح نو مبائعین دین میں بچے ہی ہوتے ہیں خواہ عمریں کتنی ہی ہوں۔اسی طرح بچوں کا حال ہے۔ان کو شروع ہی میں وقف جدید میں شامل کیا جائے تو آئندہ ہر قسم کے دوسرے چندوں میں اللہ تعالیٰ ان کے حوصلے بڑھا دے گا ، انکے دل کھول دے گا۔تو ہمیں اب باہر کی جماعتوں سے معین طور پر یہ اطلاع ملنی چاہیے کہ اتنے زیادہ بچے ہم نے بڑھائے ہیں اور بچے کے سلسلے میں پہلے دن کا بچہ بھی نظام میں شامل ہو جاتا ہے۔بعض مائیں تو پہلے زمانے جب میں وقف جدید میں کام کیا کرتا تھا تو لکھا کرتی تھیں کہ ہمارے ہونے والے بچے کا بھی چندہ لے لیں اور بعض یہ کہا کرتی تھیں ہم مومن جو ہیں نابیہ اللہ میاں سے کافی ترکیبیں کرتے رہتے ہیں کسی کا بچہ نہیں ہوتا تھا تو اس نے کہا کہ اس کا چندہ جو میرا بچہ نہیں ہورہا نا میں نے وہ لکھوا دیا وقف جدید میں ، اب اللہ آپ ہی سنبھالے معاملہ اور واقعہ ایسے میرے سامنے معین واقعے آئے کہ ڈاکٹروں نے کہا تھا بچہ نہیں ہونا کسی عورت نے یہ ترکیب چلی اور اللہ تعالیٰ نے بچہ عطا فر ما دیا یعنی چندہ دینے والا بعد میں آیا ہے چندہ پہلے آ گیا ہے تو یہ دنیا کے نظام نہیں ہیں یہ اور قسم کے نظام ہیں جو چل رہے ہیں۔تو اپنے بچوں کو شامل کریں اگر دل کا جوش اور ولولہ ہو تو بے شک ان کو بھی شامل کر لیں جو پیدا نہیں ہوئے مگر جو پیدا ہوئے ہیں ان کو تو ضرور شامل کریں۔اللہ تعالیٰ اس نظام کو ہمیشہ برکت دیتا چلا جائے اور بڑھاتا چلا جائے۔ہمارے اموال میں ہمارے اخلاص کے پیچھے پیچھے برکت دے ، آگے نہیں۔فَاتَّقُوا اللهَ مَا اسْتَطَعْتُم پہلے رکھا ہے اتفاق کا مضمون بعد میں آتا ہے۔پس پہلی دعا یہ ہے کہ ہماری تقویٰ کی استطاعت بڑھائے۔اس بڑھتی ہوئی استطاعت کے وسیع تر دائرے میں ہمارے اموال میں بھی برکت ہوتی چلی جائے اور ہماری جانی قربانیوں میں بھی برکت ہوتی چلی جائے اور یہ ایسے سلسلے ہیں جو خود اپنی ذات میں ثواب ہیں ، اپنی ذات میں جنتیں ہیں اللہ سب دنیا کو ان جنتوں سے آشنائی عطا فرمائے۔السلام علیکم الفضل انٹر نیشنل لندن 17 فروری 1995ء)