خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 413 of 682

خطبات وقف جدید — Page 413

413 حضرت خلیفہ المسیح الرابع خاص طور پر ہندوستان میں اور پھر بعض دوسری جگہوں پر بھی کام کو آگے بڑھایا جائے گا۔سب سے زیادہ نمایاں آگے قدم بڑھانے والے ملکوں میں سے اس وقت امریکہ قابل ذکر ہے۔امریکہ کے امیر صاحب نے گذشتہ سال مجھ سے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ ہم نے اپنی مجلس عاملہ میں غور کرتے ہوئے یہ سوچا ہے کہ کم سے کم کسی نیکی کے میدان میں تو امریکہ سب دنیا سے آگے بڑھ جائے۔جرمنی کا نام بار بار سنتے ہیں وہ ہر میدان میں آگے چلا جاتا ہے تو اس سے بھی رشک پیدا ہوتا ہے پس ہم نے اپنے لئے چھوٹی سی تحریک وقف جدید چن لی کیونکہ باقی جگہ تو وہ صاف ہتھیار ڈال چکے تھے۔صاف نظر آرہا تھا کہ خدمت کے دوسرے وسیع میدانوں میں تو ہم سے آگے نہیں نکلا جائے گا۔اس لئے کم سے کم وقف جدید کو ہی چن لیں چنانچہ وقف جدید کو چن کر انھوں نے محنت کی اور دو دن ہوئے مجھے فون پر ان کی طرف سے یہ پیغام ملا کہ ہم نے خدا کے فضل سے غیر معمولی محنت سے کام لیا۔( انکی اس رپورٹ کا کچھ حصہ میں پڑھ کر بھی سناؤں گا ) اور اب ہمیں یقین ہے کہ ہم جرمنی سے بہت آگے نکل چکے ہیں میں نے کہا کس طرح یقین ہے۔انھوں نے بتایا کہ ان کا اتنا وعدہ تھا جو 30-35 ہزار پاؤنڈ کے قریب بنتا تھا اور ہم نے جو وصولی اب تک کر لی ہے وہ 50 ہزار سے اوپر ہے۔اس لئے جرمنی کے قریب آنے کا بھی کوئی سوال نہیں رہا۔ہم تقریباً دگنے سے آگے بڑھ گئے ہیں لیکن جرمنی کی جب رپورٹ ملی تو جرمنی کی وصولی 52 ہزار 460 پاؤنڈ تھی۔یعنی وعدے سے دو گنے سے بھی زیادہ وصولی ہو چکی تھی۔مجھے اس وقت کسی نے کہا کہ صرف تین ہزار کا فرق رہ گیا ہے اگر آپ جرمنی کو بتا دیں تو جرمنی آسانی سے اس کو پورا کر کے پھر آگے بڑھ جائے گا۔میں نے کہا دونوں میرے ہی گھوڑے ہیں ایک گھوڑے بیچارے نے زور مارا ہے ،کوشش کی ہے۔آگے بڑھنے والا ہے میں کیوں خواہ مخواہ اس کو اس نیکی سے محروم کر دوں۔بڑی تمنا کے ساتھ انھوں نے کام کیا ہے اور واقعی بڑی محنت کی ہے انور خاں صاحب ان کے سیکریٹری وقف جدید تھے انھوں نے سارے ملک میں دورے کئے یا خطوط لکھے اور کوششیں کیں۔آگے جب اعداد و شمار آئیں گے تو آپ دیکھیں گے کہ خدا کے فضل سے تعداد کے لحاظ سے بھی بہت اچھا کام کیا گیا ہے۔ساری دنیا میں چند چھوٹے ممالک کو چھوڑ کر جن میں گنتی کی تعداد ہے غالباً امریکہ نے تعداد میں سب سے زیادہ اضافہ کیا ہے۔پاکستان کو ہم مقابلے میں شامل نہیں کرتے وہ تو خدا کے فضل سے بہر حال نمبر ایک ہی ہے اور باہر بھی جو قربانی کرنے والے ہیں ان میں بھی بھاری تعداد ماشاء اللہ ان لوگوں کی ہے جن کا پہلے پاکستان سے تعلق تھا تو اس لحاظ سے بھی پاکستانی ، پاکستانیوں کا غیر پاکستانی، پاکستانیوں کے ساتھ مقابلہ ہورہا ہے لیکن بہر حال دوسرے بھی خدا کے فضل سے بڑھ رہے ہیں۔میری تو