خطبات وقف جدید — Page 412
412 حضرت خلیفہ المسیح الرابع کوائف پڑھے تھے اس میں گزشتہ سالوں کے مقابل پر کچھ موجودہ کو ائف بھی پیش ہونگے۔سر دست میں 1991-1992ء کا موازنہ آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔1991ء میں 191076 پاؤنڈز کے وعدہ جات تھے جو 1992 ء میں بڑھ کر 257259 پاؤنڈ بن گئے۔یہ خدا کے فضل سے ایک بہت بڑا اضافہ ہے جو 34۔64 فیصد بنتا ہے۔وقف جدید ابھی بھی جس تیز رفتاری سے بڑھ رہی ہے یہ حیرت انگیز ہے ورنہ اتنے لمبے عرصے کے بعد عموماً تحریکوں کے قدم آگے بڑھنے کی رفتار کے لحاظ سے یا موازنے کی رفتار کے لحاظ سے مدھم پڑ جایا کرتے ہیں۔لیکن جب آپ وصولی کی بات سنیں گے تو مزید حیران رہ جائیں گے۔1991ء میں وعدہ 191076 تھا اور وصولی 220695 پاؤنڈ تھی جبکہ 1992ء میں وعدہ 257259 تھا اور یہ وہم سا ہوتا تھا کہ اتنے بڑے اضافے کی وجہ سے شاید پوری وصولی نہ ہو سکے لیکن وصولی اس کے مقابل پر 334688 پاؤنڈز ہے۔تو آپ دیکھیں کہ وقف جدید کی تحریک اب کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے۔کروڑوں میں داخل ہوگئی ہے یعنی اس کو پاکستانی روپوؤں میں تبدیل کر کے دیکھیں تو چند ہزار سے جو تحریک شروع ہوئی تھی اس کو خدا نے اس نئی صدی میں کروڑوں تک پہنچا دیا ہے اور یہ سلسلہ جس رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے اس سے امید ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ اس کے بہت ہی عظیم الشان نتائج ظاہر ہوں گے۔پاکستان اور بنگلہ دیش اور ہندوستان کے علاوہ بیرونی دنیا میں کام کے لحاظ سے دراصل وقف جدید کی اتنی ضرورت نہیں تھی جتنی چندے کے لحاظ سے ضرورت تھی کیونکہ وقف جدید کا زیادہ تر کام پاکستان، بنگلہ دیش اور ہندوستان میں ایک نہج پر چل پڑا ہے۔اس لئے میں نے یہ تحریک کی کہ باہر کے ممالک چندے میں شامل ہوں تا کہ ان کا موں کو آگے بڑھایا جائے لیکن افریقہ کے لئے یہ استثناء رکھا گیا ہے کہ افریقہ کا وقف جدید کا چندہ وہیں خرچ ہوگا کیونکہ افریقہ کے متعلق پالیسی یہی ہے کہ اس غریب خطہ ارض کو دنیا کی امیر قوموں نے بہت لوٹا ہے ان کا خون چوسا گیا ہے اور اب تو اکثر ممالک خوفناک اینیمیا ( خون کی کمی ) کا شکار ہو چکے ہیں اس لئے میں نے چند سال پہلے یہ اعلان کیا تھا کہ جماعت احمد یہ اس رخ کو پلٹائے گی یعنی آئندہ کبھی افریقہ کا پیسہ باہر نہیں جائے گا بلکہ باہر سے پیسہ افریقہ بھیجا جائے گا۔چندوں کے سلسلہ میں بھی یہی پالیسی ہے اور اسی لئے وقف جدید افریقہ کی جو بھی رقم ہے وہ افریقہ پر ہی خرچ ہوتی ہے بلکہ باہر کی بھی انشاء اللہ افریقہ پر خرچ کی جائے گی۔پاکستان بنگلہ دیش اور ہندوستان کے علاوہ جو درمیانی حصہ ہے اس میں زیادہ تر یورپین اور مغربی ممالک ہیں اور پھر انڈونیشیا اور جاپان وغیرہ بھی ہیں جن کے چندے سے خدا تعالیٰ کے فضل سے اب