خطبات وقف جدید — Page 397
397 حضرت خلیفة المسیح الرابع آخری جمعہ میں اعلان کیا جاتا ہے۔تو اس وقت میری توجہ اس طرف مبذول کروائی گئی کہ یہ تو ارد کوئی خاص معنی رکھتا ہے۔پس یقیناً یہ توار د اس بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ وقف جدید کا ایک تعلق تو پاکستان سے تھا جس کا آغاز پاکستان سے کیا گیا لیکن وہ دوسرا تعلق جس کے لئے میں نے تحریک کی تھی یہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے رضا یافتہ فعل ہے اور خدا کے منشاء اور تائید کے مطابق ہی ایسا ہوا ہے اور قادیان اور ہندوستان کی جماعتوں کو بھی تمام بیرونی دنیا کی احمدیوں کی غیر معمولی مالی امداد اور قربانی کی ضرورت ہے۔اور وہ وقف جدید کے راستے سے کی جائے۔چنانچہ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے اس وقت تک ایک لاکھ پاؤنڈ سالانہ کے وعدے ہو چکے ہیں لیکن جہاں تک میں نے اندازہ لگایا ہے ہمیں قادیان اور ہندوستان پر سالانہ کم از کم ایک کروڑ خرچ کرنا ہوگا اور آئندہ کئی سالوں تک اس کو مسلسل بڑھانے کی کوشش کرنی ہوگی کیونکہ جو تفصیلی منصوبے قادیان کی عزت اور احترام کو بحال کرنے کیلئے میں نے بنائے ہیں اور جو تفصیلی منصوبے ہندوستان میں جماعت کے وقار جماعت کی تعداد اور رعب اور عظمت کو بڑھانے کیلئے بنائے ہیں وہ کروڑہا روپے کا مطالبہ کرتے ہیں۔جیسا کہ میں نے جلسہ قادیان میں بھی بیان کیا تھا کہ میرا یہ تجربہ ہے کہ جب بھی ہم کوئی نیک کام خدا کی خاطر اس کی رضا کی خاطر شروع کرتے ہیں تو خواہ کتنے بڑے اموال کی ضرورت ہو اللہ تعالیٰ رستے کی سب روکیں دور فرما دیتا ہے۔اور وہ اموال مہیا ہو جاتے ہیں اور اگر کم بھی ہوں تو ان میں برکت بہت پڑتی ہے۔اور کبھی بھی میں نے یہ نہیں دیکھا کہ کوئی منصوبہ خالصتہ للہ بنایا گیا ہو اور جب اس پر عمل کرنا ہو تو روپے کی کمی یا دیگر ایسی مجبوریاں حائل ہو جائیں اور ہم اس پر عملدرآمد کرنے سے محروم رہ جائیں۔ایسا کبھی نہیں ہوانہ آئندہ کبھی انشاء اللہ ہوگا۔یہ اللہ تعالیٰ کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت سے خاص سلوک ہے۔یہ ایک زندہ خدا کا تعلق ہے جو ہمیشہ جاری رہے گا۔جب تک جماعت خدا تعالیٰ سے تعلق قائم رکھے گی۔پس فکر کے طور پر میں عرض نہیں کر رہا بلکہ میں آپ کو یہ بتا رہا ہوں کہ آئندہ قادیان اور ہندوستان کی محصور جماعتوں کے لئے جو بھی خدمتیں کرنی ہوں ان کیلئے رُخ رستہ وقف جدید کے چندے کا رستہ ہے۔اس راہ سے با قاعدہ مسلسل قربانی پیش کرتے رہیں۔جو وقتی طور پر تحریکیں ہیں وہ ایک دو سال کے کام تو کر دیتی ہیں لیکن مستقل ضرورتیں پوری نہیں کر سکتیں۔اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے قادیان اور ہندوستان کی ضرورتیں لمبے عرصہ کی ضرورتیں ہیں اور جماعت کے بہت بڑے مفادات ان سے وابستہ ہیں۔ہندوستان میں جماعت کی خدمت کرنے میں اتنے عظیم الشان عالمی مفادات ہیں کہ اگر آپ کو ان کا تصور ہو تو دل میں غیر معمولی جوش پیدا ہو اور کبھی بھی اس خدمت سے نہ تھکیں۔جو کچھ میں دیکھ رہا ہوں میں سمجھتا ہوں کہ آئندہ صدی کے ساتھ ہندوستان کی جماعتوں کے بیدار