خطبات وقف جدید — Page 396
396 حضرت خلیفة المسیح الرابع تﷺ کی حدیث بیان کی ہے اس میں ادنی سا بھی شک نہیں کہ وہ لوگ جو خدا تعالیٰ کی خاطر اسیر ہو جاتے ہیں جیسا کہ پاکستان میں اسیر ہیں جن کو باہر نکلنے کی اس لئے طاقت نہیں کہ زنجیروں نے باندھ رکھا ہے یا جیل خانے کی دیوار میں حائل ہیں۔یا وہ گیٹ حائل ہیں جن میں سلاخیں جڑی ہوئی ہیں۔وہ بھی اصحاب الصفہ کی ایک قسم ہیں اور قادیان کے وہ درویش خصوصیت کے ساتھ جن پر ظاہری پابندیاں کوئی نہیں ہیں۔کوئی زنجیریں ان کے پاؤں باندھنے والی نہیں۔کوئی ہتھکڑیاں ان کے ہاتھوں کو جکڑ نے والی نہیں۔لیکن ایک فرض کی ادائیگی کے طور پر ایک اعلیٰ مقصد کی خاطر قربانی کرتے ہوئے وہ نسلاً بعد نسل قادیان کے ہو رہے ہیں۔ان کا حق ہے اور ان کے حقوق ہمارے اموال میں داخل ہیں اور ہماری سہولتوں میں داخل ہو چکے ہیں۔یہ وہ مضمون ہے جو قرآن کریم نے ایک دوسری جگہ بیان فرمایا ہے۔جہاں فرمایا وَ فِى أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُوم کہ جو لوگ امیر ہیں کھاتے پیتے ہیں جن کو آسائشیں عطاء ہوئی ہیں ان کے اموال میں سائل کے حق بھی ہیں اور محروم کے حق بھی ہیں۔محروم سے یہاں مراد وہ مسکین ہے جس کی تعریف آنحضرت ﷺ نے فرمائی اور یہ تعریف اصحاب الصفہ کے ضمن میں بیان ہوئی تھی پس قادیان والے سائل تو نہیں ہیں لیکن بہت سے خاندان محرومین میں داخل ہیں۔ان کے لئے جو تحائف جماعت نے بھجوائے ، بہت ہی اچھا کام کیا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان سے بہت فوائد حاصل ہوئے۔لیکن یہ ایسا کام ہے جو مستقلاً با قاعدہ منصوبے کے تحت کرنے والا کام ہے۔وقف جدید کا میں نے جو نیا اعلان کیا تھا کہ وقف جدید کو باہر کی دنیا میں بھی عام کر دیا جائے صرف پاکستان تک محدود نہ کیا جائے اس سے اب مجھے معلوم ہوتا ہے کہ در حقیقت اس میں اللہ تعالیٰ کی یہی تقدیر تھی کہ قادیان اور ہندوستان کی محصور جماعتوں کیلئے ہمیں باہر سے بہت کچھ کرنا تھا اور اگر یہ تحریک نہ ہوتی تو بہت سے ایسے اہم کام جو سرانجام دینے کی توفیق ملی ہے ان سے ہم محروم رہتے۔پس اس کے لئے جہاں تک چندوں کا تعلق ہے میں کوئی اور خصوصی تحریک نہیں کرنا چاہتا۔وقف جدید کی تحریک کو آپ مزید تقویت دیں۔اس وقت تک وقف جدید بیرون میں تقریبا ایک لاکھ کے وعدے ہو چکے ہیں اور وقف جدید کا قادیان سے یا ہندوستان کی جماعتوں سے جو گہرا تعلق ہے وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک اشارے کی صورت میں اس طرح بھی ظاہر ہوا کہ میں نے قادیان میں جلسہ کے دوران پڑھائے جانے والے جمعہ میں یہ بیان کیا تھا کہ جب وقف جدید کے لئے حضرت مصلح موعودؓ نے ربوہ میں پہلا خطبہ دیا ہے تو وہ 27 / دسمبر تھی اور جلسہ کا درمیانی دن تھا۔اور قادیان میں اب جب میں حاضر ہوا تو جلسہ کے عین درمیان میں جمعہ آیا اور وہ 27 دسمبر کا دن تھا اور اسی دن وقف جدید کا مجھے بھی اعلان کرنا تھا کیونکہ دستور یہی ہے کہ سال کے