خطبات وقف جدید — Page 393
393 صلى الله حضرت خلیفہ امسیح الرابع ہو، ان کو امیر سمجھتا تھا اور حاجتمند نہیں سمجھتا تھا یہ ایک بالکل غلط بات ہے۔اسکا حقیقت سے کوئی دور کا بھی تعلق نہیں۔پھر اگلی بات یہ کہ آنحضرت ﷺ کے متعلق فرمایا کہ تَعْرِفُهُمْ بِسِيمَهُم تو ان کے چہروں کی علامتوں سے ان کو پہچانتا ہے۔اصحاب الصفہ کو تو چہروں کی علامتوں سے پہچاننے کی کوئی ضرورت ہی نہیں تھی وہ سب سامنے تھے ان کا حال ظاہر و باہر تھا۔آنحضرت ﷺ دن رات ان کی فکر میں غلطاں رہا کرتے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ان کو پہچاننے کی ضرورت ہو۔یہ شان نزول تو یقیناً اصحاب الصفہ ہی ہوں گے جیسا کہ روایات میں بیان ہوا ہے لیکن تمام مسلمان سوسائٹی میں خدا کے ایسے بہت سے بندے تھے جن کے رزق کی را ہیں تنگ ہو چکی تھیں اور جو عام روز مرہ کی زندگی میں اپنی غربت کو ظاہر نہیں کرنا چاہتے تھے۔انہی کے متعلق آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ مسکین وہ نہیں ہے جس کو دو تین کھجوریں میسر آجائیں یا دو لقے میسر آجائیں بلکہ مسکین وہ ہے جو خدا کی راہ میں صبر کے ساتھ گزارا کرتا ہے اور کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتا، اپنی ضرورتوں کو دوسروں پر ظاہر نہیں کرتا ، پس اصحاب الصفہ تو اپنے حالات کی وجہ سے ظاہر ہو کر سامنے آچکے تھے کچھ آیات کا مضمون ان پر ان معنوں میں ضرور صادق آتا ہے کہ شدید غربت کے باوجود ہاتھ نہیں پھیلاتے تھے اور فاقوں کے باوجود کسی سے مانگتے نہیں تھے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وہ روایت بارہا آپ نے سنی ہوگی اور بار ہا سنائی بھی جائے تو وہ کبھی پرانی نہیں ہوتی کہ ایک دفعہ فاقوں سے بے ہوش ہو گئے اور لوگ سمجھے کہ مرگی کا دورہ ہے چنانچہ جو تیاں سنگھانے لگے۔بعض روایات میں آیا ہے کہ ان کو ہوش میں لانے کے لئے تھپڑ بھی مارے گئے اور لوگ یہی سمجھتے تھے کہ یہ مرگی کا دورہ ہے۔حالانکہ وہ کہتے ہیں کہ میں فاقوں کی وجہ سے بے ہوش ہوا تھا۔تو جن کی یہ کیفیت ہے ، ان کا خواہ وہ اصحاب الصفہ میں تھے یا باہر تھے۔اسوقت تھے یا آئندہ آنے والے تھے ان سب پر ان آیات کا مضمون اطلاق پاتا ہے پھر فرمایا اُحْصِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ لَا يَسْتَطِيعُونَ ضَرْبًا فِي الْأَرْضِ کہ یہ وہ لوگ ہیں جو خدا کی راہ میں گھیرے میں آگئے اور ان کا باہر جانا ممکن نہیں تھا۔بعض مفسرین مثلا قرطبی نے یہ لکھا ہے کہ مراد یہ تھی کہ وہ روزی کمانے کیلئے باہر نہیں جا سکتے تھے کیونکہ اردگر د حالات خراب تھے۔یہ بات بالکل غلط ہے کیونکہ اصحاب الصفہ کے علاوہ اور مسلمان بھی سارے مدینہ میں بس رہے تھے۔وہ جب باہر جاسکتے تھے اور کما سکتے تھے تو صرف اصحاب الصفہ پر ہی کیا قیامت آپڑی تھی کہ وہ باہر نہیں جاسکتے تھے تو ضــربـــا فـــى الاَرضِ سے مراد یہ نہیں ہے کہ وہ جسمانی لحاظ سے باہر نکلنے کی طاقت نہیں رکھتے تھے کیونکہ ایک اور روایت بھی اس تفسیر کو غلط قرار دیتی ہے۔جب حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے یہ نصیحت فرمائی کہ جو خدا کی راہ میں خرچ کرتا ہے وہ بہتر ہے۔جس کو دیا جائے اس کی نسبت جو ہاتھ دینے والا ہے وہ بہتر ہے۔اس قسم کی