خطبات وقف جدید — Page 392
392 حضرت خلیفہ المسیح الرابع خرچ کرتے ہو، مال دیتے ہو، خیر سے مراد یہاں مال ہے ، فَاِنَّ اللهَ بهِ عَلِیمٌ ، اللہ تعالیٰ اسے بہت جانتا ہے۔یہ آیت اور اس سے پہلے کی جو آیات ہیں جن میں صدقات کا مضمون بیان ہوا ہے، تمام اہل تفسیر کے نزدیک اصحاب الصفہ پر اطلاق پانے والی آیات ہیں۔اصحاب الصفہ وہ مہاجرین تھے جو مسجد نبوی میں ایک تھڑے پر زندگی بسر کر رہے تھے۔ان کے متعلق مختلف روایات ہیں۔اصحاب الصفہ کی جو تعداد ہے اس میں بھی اختلافات ہیں لیکن بالعموم جومستند روایات ہیں مثلاً بخاری میں بھی ستر کا ذکر ہے کہ کم و بیش ستر اصحاب الصفہ تھے جو دن رات مسجد نبوی میں ہی رہائش پذیر تھے۔ان کا پس منظر یہ ہے کہ جب مہاجرین مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ کی طرف آنا شروع ہوئے تو ان کیلئے گزراوقات کی کوئی صورت نہیں تھی۔مسجد نبوی میں جب ایک گروہ اکٹھا ہو جاتا تھا تو حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ یہ اعلان فرمایا کرتے تھے کہ جس کے گھر دو کا کھانا ہو وہ تیسرے کو ساتھ لیجائے۔اس طرح یہ مہاجرین مختلف گھروں میں بٹتے رہے لیکن کچھ ایسے تھے جن کیلئے کوئی جگہ نہیں تھی وہ رفتہ رفتہ اسی مسجد میں ہی بسیرا کر گئے۔اور ان کی تعداد بڑھتے بڑھتے ستر یا بعض کے نزدیک اس سے بھی زیادہ ہو گئی۔شان نزول تو اصحاب الصفہ ہی ہیں لیکن قرآن کریم کی آیات کو کسی شان نزول کی حدود میں محصور نہیں کیا جاسکتا۔کیونکہ یہ دائمی کلام ہے اور تمام عالم پر اثر انداز ہے۔اس لئے شان نزول تک قرآن کریم کی آیات کے مضامین کو محدود کرنا یہ خود محدود عقل کی علامت ہے اور قرآن کریم کی شان کو نہ سمجھنے کے نتیجہ میں بعض لوگ یہ رجحان رکھتے ہیں کہ شان نزول بیان کی اور معاملے کو وہیں ختم کر دیا۔گویا کہ ہر آیت اپنی شان نزول کے ساتھ مقید ہو کر ماضی کا حصہ بن چکی ہے یہ درست نہیں ہے۔شان نزول کچھ بھی ہو آیات اپنے اندر اس بات کی قوی گواہی رکھتی ہیں کہ ان کا اطلاق وسیع تر ہے۔اور آئندہ آنے والے زمانوں پر بھی ہوتا چلا جائے گا۔مثلاً یہی آیت جس میں یہ ذکر ہے کہ يَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ اَغْنِيَاءَ مِنَ التَّعَفُّفِ کہ جاہل ان کو تعفف کی وجہ سے غنی شمار کرتا ہے۔اب جہاں تک اصحاب الصفہ کا تعلق ہے کوئی آدمی بھی ایسا نہیں ہوسکتا تھا جو اصحاب الصفہ کوغنی شمار کرتا ہو کیونکہ حضرت ابو ہریرہ کی روایت ہے کہ ہم میں سے اکثر کے پاس تو چادر بھی نہیں تھی جس کو اوڑھ لیتے اور کھانے کا کوئی انتظام نہیں تھا، رات کو کوئی دوست کھانا پیش کر دیتے تھے، صبح آنحضور ﷺ آ کر ہمارا حال دریافت فرماتے اور پوچھا کرتے کہ کچھ کھانے کو ملایا نہیں۔اور اس پر ہم عرض کرتے کہ یا رسول اللہ کچھ ملا تو بہت خوش ہوتے۔خدا کا شکر ادا کرتے کہ الحمد للہ خدا کی راہ میں فقیروں کو کچھ کھانے کومل گیا۔یہ کیفیت جن لوگوں کی ہو ان کے متعلق یہ خیال کر لینا کہ کوئی بھی جاہل خواہ کیسا بھی جاہل کیوں نہ صل الله