خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 364 of 682

خطبات وقف جدید — Page 364

364 حضرت خلیفہ مسیح الرابع تکلیف جو شدت سے محسوس ہوئی وہ پانی کا فقدان تھا یعنی پانی میسر تو تھا لیکن ایسا خوفناک کہ اس کے پینے سے بجائے اس کے کہ پیاس بجھے الٹی آتی تھی اور طبیعت متلانے لگتی تھی۔تیل کی طرح کا پانی مٹھی کے علاقے میں اور وہ بھی قیمت دے کر خرید نا پڑتا تھا اور دنیا کی کوئی سہولت وہاں میسر نہیں تھی۔وہ تو خیر کوئی ایسی معمولی بات ہے عام دنیا کی جو موجودہ زمانے کی بڑی سہولتیں ہیں اس کے بغیر بھی انسان بہت اچھی طرح گزارا کر سکتا ہے زندگی کے انداز بدلنے پڑتے ہیں لیکن پانی اچھا میسر نہ ہو تو زندگی بہت ہی تکلیف میں کٹتی ہے۔بہر حال معلمین وہاں اس حالت میں مستقل رہتے تھے جس حالت میں مجھ سے ایک دو دن رہنا مشکل تھا اور میں نے محسوس کیا کہ کسی تکلیف میں یہاں گزارا کرتے ہیں۔چنانچہ بعد میں کوششیں کی گئیں کہ کسی طرح ان کے پانی کے مسائل حل ہوں اور خدا کے فضل سے بعد میں حل بھی ہوئے لیکن اور آگے بڑھ کر ایک اور نئی مصیبت کا سامنا ہوا۔وہاں پتہ چلا کہ بعض ایسے سانپ ہیں جن کو پین کہتے ہیں سندھی تلفظ میں پیٹ کہیں گئے نون اورڑ کے درمیان کا کوئی لفظ ہے یعنی پی جانے والا سانپ اور وہ سانپ ڈستا نہیں بلکہ وہ کہتے تھے منہ پر منہ رکھ کر سانس پی جاتا ہے۔دراصل وہ زہر تھوکتا ہے اور اس کے زہر کا اثر گلے پر پڑتا ہے اور گلے سے براہ راست آنکھوں پر حملہ کرتا ہے اور اس کا مریض اگر بچ جائے تو اندھا ہو جاتا ہے اور خود اس سانپ کی بھی یہ کیفیت ہے کہ اگر دن کی روشنی میں اس کی آنکھیں کھل جائیں تو وہ خود اندھا ہو جاتا ہے۔اس لئے دن کے وقت بلوں میں سوراخوں میں مختلف اندھیری جگہوں میں، اینٹوں کے نیچے سر دے کر یہ سانپ سو جاتا ہے۔اور دن کے وقت بچے اس سے کھیلتے ہیں جس طرح بٹی ہوئی رسی سے کھیلتے ہیں اس طرح اس کو اپنے اردگرد لپیٹتے اور ایک دوسرے کو اس سے سانٹے مارتے اوراس سانپ کا کوئی خوف نہیں لیکن جونہی اندھیرا ہوتا ہے تو یہ باہر نکل کر مختلف جانداروں کے ساتھ لیٹ کر ان کے منہ پر منہ رکھ کر اس میں تھوکتا ہے اور اس کو اس میں کیا مزہ ہے۔کیا وہ اس سے لذت حاصل کرتا ہے۔کوئی نہیں جانتا لیکن یہ عادت بہر حال اسی طرح ہی ہے چنانچہ وہاں مجھے یہ بتایا گیا کہ یہ سانپ ہیں اور ہم نے دیکھے بھی۔رات کو سفر کر رہے تھے تو ایسی طبیعت میں کراہت پیدا ہوئی کہ ساری رات نیند نہیں آئی۔آدمی سوچ بھی نہیں سکتا کہ اس کے ساتھ کوئی سانپ آکر لیٹ جائے اور پھر منہ پر منہ رکھ دے تو وہ جو مختلف نظارے وہاں دیکھے جس طرح معلم وہاں کام کر رہے ہیں تو طبیعت پر بڑا گہرا اثر پڑا اور اس کا فائدہ یہ ہوا کہ واپس جا کر انکی زندگی کونسبتا بہتر بنانے کے لئے وقف جدید میں جو غریبانہ طاقت تھی وہ استعمال کی گئی اور ان کے مسائل کو سمجھ کر پھر ان سے کام لئے گئے بہر حال ان حالات میں وقف جدید نے وہاں کام کیا اور کر رہی ہے۔اور عجیب حسنِ اتفاق ہے یا خدا کی تقدیر ہے یعنی دونوں چیزیں اکٹھی ہوں گی کہ ہندوستان میں جب وقفِ