خطبات وقف جدید — Page 363
363 حضرت خلیفہ امسیح الرابع اور معلمین وہاں جا کر عیسائیوں کے مقابل پر یہی پیغام دیتے تھے کہ کچھ لوگ تمہاری بھوک مٹانے کے لئے آئے ہیں بہت اچھی بات ہے ،تمہیں کپڑے پہنانے کے لئے آئے ہیں یہ بھی بہت اچھی بات ہے لیکن ساتھ ہی تمہیں بھکاری بنانے کے لئے بھی آئے ہیں اور پیسہ دے کر تمہارا مذہب تبدیل کرنے کے لئے آئے ہیں اور یہ اچھی بات نہیں ہم تمہیں مزید عزت نفس عطا کریں گے، ہم تمہیں اسلام بھی دیں گے اور اس کے ساتھ تم سے مالی قربانی کے مطالبے بھی کریں گے اور تمہیں یہ کہیں گے کہ انتہائی غربت کے باوجود کچھ نہ کچھ نیک کاموں میں خرچ کرنے کی عادت ڈالو۔یہ پیغام بظاہر کڑوا ہے لیکن درحقیقت تمہیں تحت الٹر کی سے اٹھا کر آسمان کی بلندیوں تک لے جائے گا اور یہ سادہ پیغام ان کے دل پر اتنا اثر انداز ہوا اور اتنا اس نے ان کے دلوں کو لبھایا کہ خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ عیسائیت کے مقابل پر احمدیت کو وہاں بڑی کثرت کے ساتھ ہندو غریب اقوام کو اسلام میں داخل کرنے کی توفیق ملی اور اس کے ساتھ ہی پھر ان کو نچلے طبقے سے اٹھا کر ایک بغیر طبقات کے سوسائٹی میں عزت کا مقام عطا کیا گیا۔چنانچہ اس کے خلاف سب سے زیادہ ردّ عمل دیگر مسلمان تھری“ لوگوں نے دکھایا۔جب ہم ان کے ساتھ بیٹھ کر چائے پیتے تھے یا کھانا کھاتے تھے تو شدید نفرت کا اظہار دوسرے مسلمانوں کی طرف سے کیا جاتا تھا جن کے مذہب میں طبقاتی تقسیم کا تصور ہی کوئی نہیں اور ہندو اس نفرت سے ہمیں نہیں دیکھتے تھے بلکہ وہ حیرت سے دیکھتے تھے کہ یہ عجیب لوگ ہیں جنھوں نے اپنی ظاہری عزت کی کوئی پرواہ نہیں کی اور مذہب کے تبادلے کے نتیجے میں ان کے ساتھ برابر ہو گئے ہیں۔بہر حال ایک لمبا عرصہ اس جد و جہد میں گزرا یہاں تک کہ خدا کے فضل سے وہاں کی را ئیں تبدیل ہو ئیں سوچیں بدلی گئیں اور بہت بڑا انقلاب بر پا ہوا۔مشکل صرف یہ در پیش تھی کہ ان کے اندر گہرا اسلام جذب کرانے کے لئے بہت محنت درکار تھی۔سادہ محبت کا پیغام تو حید کا پیغام بڑی آسانی سے سمجھ جاتے تھے اور قبول بھی کر لیتے تھے لیکن اس بات کی راہ میں بہت بڑی دقتیں حائل تھیں کہ با قاعدہ نماز سکھائی جائے اور پھر نماز کا عادی بنایا جائے۔روزے سکھائے جائیں اور پھر روزے رکھنے کی عادت ڈالی جائے اور اسلام کے پر ہیزوں کے متعلق تلقین کی جائے پاکیزگی کے متعلق تلقین کی جائے ، پھر اس پر عمل پیرا کرنے کے لئے ان پر انکی مدد ہو۔انکی نگرانی کی جائے وغیرہ وغیرہ۔اس عرصے میں یعنی اس گذشتہ تمام عرصے میں مسلسل وقف جدید کے معلمین وہاں یہی کام کر رہے ہیں اور اگر چہ حالات بہت ہی ناسازگار ہیں اتنے ناسازگار ہیں کہ آپ جب تک وہاں جائیں نہ اس وقت تک آپ کو تصور ہی نہیں ہو سکتا کہ کن مشکلات میں وہاں وقف جدید کے معلمین نے پہلے کام کیا اور اب بھی اگر چه مشکلات نسبتا کم ہیں لیکن پھر بھی بہت مشکل حالات ہیں میں جب پہلی دفعہ وہاں گیا تو پہلی