خطبات وقف جدید — Page 357
357 حضرت خلیفہ امسیح الرابع حصہ لیا۔ربوہ مجھے یاد نہیں کہ پچھلے سال دوئم تھایا نہیں۔لیکن اس سال دوسرے نمبر پر ہے اور ربوہ میں چونکہ اکثر آبادی غرباء پر مشتمل ہے اس لئے ربوہ کا سارے پاکستان میں دوسرے نمبر پر آنا خدا تعالیٰ کے فضل سے ایک خاص اعزاز ہے جو اہل ربوہ کونصیب ہوا۔لاہور خدا کے فضل سے چندوں میں بہت اچھا ہے لیکن وقف جدید میں تیسرے نمبر پر ہے۔کراچی کا قدم بہت نمایاں طور پر آگے ہے ربوہ اس سے کئی قدم پیچھے ہے لیکن اس کے باوجود دوئم پوزیشن حاصل ہے اور لاہور کراچی سے یوں کہہ لینا چاہئے کہ اگر کراچی نے تین قدم اٹھائے ہیں تو لاہور نے دو اٹھائے ہیں یہ نسبت ہے ان کی آپس میں اور فیصل آباد امسال سیالکوٹ کو پیچھے چھوڑ گیا ہے سمجھ نہیں آئی کہ سیالکوٹ اپنے گذشتہ سال کے مقابل پر کیوں پیچھے ہٹا ہے اور یہ ایک استثنائی مثال ہے ورنہ بالعموم ہر ضلع آگے بڑھتا ہے میں سمجھتا ہوں کہ وہاں سے رپورٹیں آنے میں کچھ کمی رہ گئی ہے ورنہ مجھے سیالکوٹ پر حسن ظن ہے۔خدا تعالیٰ نے اس کو جو یہ تقدم عطا فرمایا تھا او لیت عطا فرمائی تھی اس کو یہ انشاء اللہ قائم رکھے گا اور امیر صاحب سیالکوٹ کو یہ خصوصیت کے ساتھ توجہ کرنی چاہئے کہ کسی قیمت پر بھی اپنے اس سال کو گزشتہ سال سے ہارنے نہ دیں ابھی وصولی کے کچھ دن باقی ہیں کیونکہ وقف جدید کی وصولی دسمبر میں ختم نہیں ہو جاتی بلکہ عموماً جنوری کا پورا مہینہ اور فروری کا کچھ حصہ سالِ گذشتہ کی وصولی میں شمار ہوتا رہتا ہے۔اس لئے ویسے بھی مومن کو چاہئے کہ اس کا ہر قدم آگے بڑھے لیکن یہ سال چونکہ غیر معمولی خصوصیت کا سال ہے اس سال دنیا کی کسی جماعت کو بھی اپنے اخلاص پر داغ نہیں لگنے دینا چاہئے کہ جب ساری دنیا میں 1989 ء کا سال نمایاں شان سے آگے بڑھ رہا تھا تو ہمارے پاس سے جب یہ سال گزرا تو اس کے قدم ڈھیلے پڑ گئے اور پچھلے سال سے بھی پیچھے رہ گیا۔پس اس مسابقت کی روح کے ساتھ جو سالوں کے درمیان بھی چلنی چاہئے آپ اپنے اس سال کو پیچھے نہ ہٹنے دیں۔دفتر اطفال بھی وقف جدید کا ایک دفتر ہے یعنی بڑوں کے چندوں کے علاوہ اطفال کے چندے بھی الگ وصول کئے جاتے ہیں۔اس پہلو سے بھی خدا کے فضل کے ساتھ کراچی اوّل ہے لیکن لاہور ربوہ کو پیچھے چھوڑ گیا ہے اور اگر چہ بہت معمولی فرق ہے جس کو گھڑ دوڑ کی اصطلاح میں کہتے ہیں کہ گردن کا فرق رہ گیا یا سر کا فرق رہ گیا تو اتنا تھوڑا سا فرق ہے آگے جا کر ممکن ہے یہ بدل جائے کیونکہ ابھی آخری لائن نہیں آئی جہاں سے گزرنا ہے تو بہر حال لاہور ، ربوہ کو پیچھے چھوڑ گیا ہے اور راولپنڈی چوتھے درجے پر اور سیالکوٹ اس پہلو سے فیصل آباد کو پیچھے چھوڑ گیا ہے اور آگے نکل گیا الحمد للہ اور اس نے پچھلے سال سے بھی نمایاں ترقی کی ہے اس لئے مجھے خیال ہے کہ غالباً اعدادوشمار کی غلطی ہو گی ورنہ وقف جدید کے لحاظ سے دفتر اطفال میں سیالکوٹ کا قدم آگے ہے اور کوئی وجہ نہیں کہ بالغان میں بھی وہ قدم آگے نہ بڑھے، ہاں تعداد