خطبات وقف جدید — Page 355
355 حضرت خلیفہ المسح الرابع پس چندوں میں بھی میرا یہ وسیع تجربہ ہے، اپنے متعلق بھی اور دوسروں کے متعلق بھی کہ جب بھی آپ خدا کی راہ میں کچھ پیش کرنے کی توفیق پاتے ہیں تو وہ توفیق آپ کی توفیق بڑھاتی ہے اور اس کے علاوہ ایک اور خدا کا فضل ہے جو ہمیشہ چندے دینے والوں پر نازل ہوتا ہے کہ ان کی مالی حیثیت بھی پہلے سے بہتر ہونی شروع ہو جاتی ہے ان کے قرضوں کے بوجھ کم ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔ان کو جو روز مرہ کی چٹیاں پڑتی رہتی ہیں اس میں کمی آجاتی ہے کئی قسم کی مصیبتوں سے وہ بچائے جاتے ہیں۔پس میرے علم میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ چندہ دینے والا چندہ دینے کی وجہ سے نقصان میں رہا ہو یعنی جزاء کا وہ مفہوم جو خدا کی رضا سے تعلق رکھتا ہے یا آخرت سے تعلق رکھتا ہے اس کے علاوہ بات کر رہا ہوں وہ تو اپنی جگہ ہے۔انسان جب خدا کی راہ میں کچھ پیش کرتا ہے تو رضا کی خاطر کرتا ہے اور وہی چندہ ہے جو مقبول ہوتا ہے اور اسی کے نتیجے میں دنیا بھی سنورتی ہے۔پس جہاں تک نیتوں کا تعلق ہے نیت یہ ہونی چاہئے کہ محض اللہ خدا کی رضا کی خاطر ہم یہ دے رہے ہیں اور جب آپ اس نیت کے ساتھ دیتے ہیں تو اللہ کی رضا صرف آخرت کی جزا نہیں دیتی بلکہ دنیا میں بھی آپکو جزاء دیتی ہے اور چندہ دینے والا جانتا ہے یقینی طور پر اس کو علم ہو جاتا ہے کہ بہت سی ایسی برکتیں اس کو نصیب ہوتی ہیں جو پہلے حاصل نہیں تھیں۔اس لئے دنیا میں لکھوکھہا احمدی ذاتی طور پر اس بات کے گواہ ہیں بچے بھی گواہ ہیں مرد بھی گواہ ہیں ، عورتیں بھی ،سب دنیا میں جماعت کے ساتھ خدا تعالیٰ یہی سلوک کرتا ہے کہ اخلاص کے ساتھ خدا کی راہ میں کچھ پیش کرنے والے کی قربانی کی توفیق بھی بڑھتی ہے اور مالی وسعت بھی اس کو عطا ہوتی ہے۔پس وقف جدید میں جب ہم افراد کی تعداد میں اضافے پر زور دیتے ہیں تو میری نیت اس میں ہمیشہ یہی ہوتی ہے تا کہ وہ احمدی بھی جواب تک مالی قربانی کی لذت سے محروم ہیں اور اس کی برکتوں سے محروم ہیں انکو اس بہانے ایک موقع میسر آجائے اور پھر خدا کے فضل کے ساتھ وہ ہر دوسری تحریک میں بھی خود بخود آگے بڑھنے لگے اس پہلو سے بہت سا کام ابھی ہونا باقی ہے اگر چہ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے اس سال خدا کے فضل کے ساتھ ہر پہلو سے جماعت میں اضافہ ہوا ہے، وقف جدید کے چندے میں بھی اضافہ ہوا ہے۔وقف جدید کی قربانی کرنے والے افراد کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے لیکن گنجائش ابھی بہت موجود ہے۔افریقہ کے ممالک میں خصوصیت کے ساتھ بہت بڑی گنجائش موجود ہے افریقہ کے ممالک میں جو اُمراء یا مربیان کام کرتے ہیں وہ بعض دفعہ یہ کہہ دیتے ہیں کہ جی غریب ہے ملک اس میں قربانی کی توفیق اتنی نہیں مگر جہاں تک میرا جائزہ ہے میں ان ملکوں میں پھر کے آیا ہوں میں نے دیکھا ہے کہ غربت کے با وجود افریقہ میں مالی قربانی کی روح بڑی نمایاں ہے اور قربانی کے لحاظ سے افریقن قوم دنیا کی کسی قوم سے