خطبات وقف جدید — Page 344
344 حضرت خلیفة المسیح الرابع پچیس فیصد تک بھی آخری ایک دو ماہ میں گزشتہ سال کا چندہ موصول ہوتا ہے تو میں امید رکھتا ہوں کہ جس رفتار سے اللہ تعالیٰ پاکستان کی جماعتوں کو آگے قدم بڑھانے کی توفیق عطا فرما رہا ہے اس سال بھی ویسا ہی سلوک فرمائیگا اور ہمیشہ پہلے سے بڑھ کر آگے قدم بڑھانے کی توفیق عطا فرما تا رہے گا۔دعا کی تحریک کے طور پر عموماً ان جماعتوں کے نام سنائے جاتے ہیں جنہوں نے مالی قربانی میں غیر معمولی حصہ لیا ہے۔دفتر اطفال کا جہاں تک تعلق ہے جس ترتیب سے میں یہ نام سناؤں گا اسی ترتیب سے خدا تعالیٰ کے فضل سے اطفال کے چندے کے سلسلہ میں ان جماعتوں کو غیر معمولی قربانی کی توفیق ملی ہے۔ربوہ سرفہرست ہے پھر بدین، سانگھڑ، سکھر ، خیر پور، رحیم یار خاں ،مظفر گڑھ ، راجن پور، گوجرانوالہ، لاہور ، سیالکوٹ ، ٹوبہ ٹیک سنگھ ، سرگودہا ، چکوال، راولپنڈی، اسلام آبا دا ور ا ٹک ہیں۔جہاں تک عام چندہ وقف جدید کا تعلق ہے اسمیں اس فہرست کی ترتیب حسب ذیل ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ربوہ آسمیں بھی سر فہرست ہے پھر کراچی ، حیدرآباد، تھر پارکر ، سانگھڑ ، خیر پور، رحیم یار خاں، ڈیرہ غازی خاں ، راجن پور، بہاولنگر ، ملتان، گوجرانوالہ، لاہور ، سیالکوٹ ،فیصل آباد، شیخو پورہ، جھنگ ، اوکاڑہ، گجرات، چکوال، راولپنڈی اور ایبٹ آباد ہیں۔یہ میں نہیں جانتا کہ وقف جدید کے دفتر والوں نے یہ ترتیب کیسے قائم کی ہے۔جب میں وقف جدید میں ہوا کرتا تھا تو بڑی احتیاط سے مختلف پہلوؤں سے جائزے لیکر یہ ترتیب قائم کیا کرتا تھا۔جہاں تک کل چندے کا تعلق ہے ظاہر بات ہے کہ یہ ترتیب درست نہیں ہے کیونکہ ناممکن ہے کہ سانگھڑ کو لاہور سے زیادہ یا رحیم یار خاں یا ڈیرہ غازی خاں کولا ہور سے زیادہ چندہ پیش کرنے کی توفیق ملی ہو۔اس لئے یا تو غلطی ہوئی ہے اور اس دفعہ انہوں نے یہ جو فہرست بھجوائی ہے یہ بے ترتیب بھیج دی ہے مگر چونکہ ہمیشہ گزشتہ سالوں میں ایک ترتیب قائم کی جاتی تھی اور اول جماعتوں کا اول ذکر کیا جاتا تھا اس لحاظ سے میں نے یہی سمجھا کہ اسی ترتیب سے ان جماعتوں نے قربانی میں حصہ لیا ہو گا۔اگر انہوں نے یعنی وقف جدید کے دفتر والوں نے کسی اور پہلو سے یہ ترتیب قائم کی ہے مثلاً گزشتہ سال کے مقابل پر فی کس چندہ دہندہ کے اضافے کا جہاں تک تعلق ہے تو ہوسکتا ہے یہ ترتیب بدل چکی ہواور بعض چھوٹی جماعتیں اس پہلو سے زیادہ آگے آجائیں یا یہ بھی ہو سکتا ہے بعض دفعہ ترتیب قائم کی جاتی ہے کہ وعدوں کے مقابل پر وصولی کی نسبت کے لحاظ سے کون آگے ہے کیونکہ ایسی کوئی وضاحت موجود نہیں ہے یا بھیجی گئی ہے تو اتنی تاخیر سے بھیجی گئی ہے کہ ابھی میں اس کا مطالعہ نہیں کر سکا اسلئے میں نے احیتا کا ساتھ یہ وضاحت کر دی ہے۔یہ نہ ہو کہ بعد میں جماعتیں پھر احتجاج شروع کر دیں کہ ہم نے زیادہ دیا تھا آپ نے ہمارا نام پیچھے پڑھ دیا کیونکہ اکثر جماعتیں پھر یہ کہا کرتی ہیں بہر حال جو بھی اللہ