خطبات وقف جدید — Page 327
327 حضرت خلیفہ امسیح الرابع میں آپ کو یہ بات سمجھانا چاہتا ہوں جس طرح پاکستان کی جماعت کو خدا تعالیٰ نے ترقی کا وعدہ دیا ہے اسی طرح دنیا کی جماعتوں سے بھی ایک عمومی وعدہ ہے اضلاع کی جماعتوں سے بھی وعدہ ہے۔شہروں اور قصبات اور دیہات کی جماعتوں سے بھی وعدہ ہے لیکن یہ وعدہ ایک Potential کی حیثیت رکھتا ہے یعنی خدا تعالیٰ کی تقدیر مدد کے لئے تیار ہے وہ جماعت کو ضرور آگے بڑھائے گی اگر تم لوگ اس سے استفادہ کرو گے۔بالعموم استفادہ کی طاقت، چونکہ جماعت میں نہ استفادہ کرنے کی طاقت کے مقابل پر غالب رہتی ہے اسلئے عمومی طور پر آپ جماعت کو ہمیشہ آگے بڑھتا دیکھتے ہیں۔تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جتنا بڑھ سکتی تھی اتنا بڑھی ہے بلکہ بعض جگہ جہاں خدا کی نعمتوں کی تکذیب کی جائے یعنی ان معنوں میں کہ ان نعمتوں سے فائدہ نہ اٹھایا جائے ، نظام کمزوری دکھائے ، مقامی عہدیدران ذمہ داریاں ادا نہ کریں تو بعض جگہ آگے بڑھنے کی بجائے پیچھے بھی قدم چلے جاتے ہیں لیکن یہ پیچھے جانے والے قدم چند ہیں۔قافلے کے قدم بحیثیت مجموعی آگے ہی بڑھتے ہیں اور جہاں قدم پیچھے جائیں وہاں لازم ہے کہ بعض انسانوں کا قصور ہے خدا کی تقدیر کا کوئی قصور نہیں اس سے وعدے کی عمومی شکل میں کوئی اثر نہیں پڑتا لیکن کچھ جگہ جماعتوں نے توجہ دی ہے کچھ جگہ نہیں دی چنانچہ سندھ کے بعض اضلاع میں مثلا سکھر خیر پور وغیرہ جہاں سخت حالات کے پیش نظر ایک نوجوان امیر کو خاص طور پر مقرر کیا گیا تھا وہاں حالات اسی طرح بد ہیں اور خطرناک ہیں اور ہر قسم کی مشکلات بھی موجود ہیں کئی لوگوں کو وہ علاقہ بھی چھوڑنا پڑا لیکن وقف جدید کے چندے کا موازنہ بتا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کا قدم نمایاں آگے کی طرف ہے۔بعض دوسرے اضلاع ہیں جہاں خدا کے فضل سے امن کے حالات ہیں الا ماشاء اللہ۔ایک دو جگہ ابتلا کی حالتیں پیدا ہوئیں ہیں مگر خدا تعالیٰ کے دنیاوی فضل بھی نسبتاً بہت زیادہ ہیں وہاں قدم آگے بڑھنے کی بجائے پیچھے چلا گیا ہے۔تھر پارکر اور سانگھڑ وغیرہ کے علاقے جو ہیں انکی امارتوں اور عہدیداروں کو میں متنبہ کرتا ہوں کہ یہ عجیب حالت ہے کہ جہاں بارش برس رہی ہے وہاں روئیدگی زیادہ نہیں ہو رہی اور جہاں شبنم پڑ رہی ہے وہاں روئیدگی بہت زیادہ ہو رہی ہے۔خدا تعالیٰ کی جماعت بنتے ہیں تو جب بارش پڑے تو بارش والے حالات دکھایا کریں کم سے کم شبنم پڑنے والوں سے تو پیچھے نہ رہا کریں۔اسی طرح بعض اضلاع ہیں جو پہلے پیچھے رہنے والوں میں سے تھے مثلاً مظفر گڑھ ، وہاڑی ، خانیوال اور لیہ ہیں یہ کمزور اضلاع میں سے تھے لیکن اللہ کے فضل سے ان میں ترقی ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے بعض اضلاع میں بہت نمایاں ترقی کے آثار ہیں مثلاً مظفر گڑھ ، گوجرانوالہ، اوکاڑہ ، جہلم ،اٹک ، پشاور ، کوہاٹ، ڈیرہ اسماعیل خاں، نواب شاہ ، اور خیر پور وغیرہ شامل ہیں۔دوسری جگہیں ہیں جہاں کمی آگئی ہے ان کی تفصیل میں یہاں لایا ہوا ہوں لیکن پڑھ کر نہیں سنا تا تا کہ ان لوگوں کی