خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 320 of 682

خطبات وقف جدید — Page 320

320 حضرت خلیفہ امسیح الرابع میل لگائے ہیں تا کہ ہم اپنے اوقات کو مختلف حصوں میں تقسیم کر کے اپنے حالات کا تقابلی جائزہ لیتے رہیں یہ معلوم کرتے رہیں کہ ہم کل کہاں تھے آج کہاں ہیں اس مقصد سے دنیا کی سڑکوں پر بھی میل لگائے جاتے ہیں اسی مقصد سے قرآن کریم سے پتہ چلتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے وقت کی راہ پر بھی میل لگا دیئے ہیں اور یہ علامتیں کھڑی کر دی ہیں جس کو ہم سال کا آنا اور جانا کہتے ہیں مہینوں کا گزرنا کہتے ہیں یا ہفتوں کا یا روز شب کا اولنا بدلنا کہتے ہیں۔اس لحاظ سے اگر چہ یہ سال ختم ہو رہا ہے لیکن سفر تو بلا روک ٹوک جاری رہیگا اور جس مقصد کی خاطر یہ حد بندیاں لگائی گئی ہیں اس کے پیش نظر ہمیں جائزہ ضرور لینا چاہیے کہ کس حد تک ہمارا سال گزرا اور کس حد تک ہم اگلے سال میں داخل ہونے سے پہلے اس سال سے سبق حاصل کر سکے ہیں۔جیسا کہ میں نے کہا ہے سال اچھے بھی آیا کرتے ہیں اور بُرے بھی آیا کرتے ہیں۔آسانی والے بھی اور سختی والے بھی آتے ہیں۔قرآن کریم سے پتہ چلتا ہے کہ مصر میں سات سال بہت ہی آسانی کے آئے پھر سات سال بہت سختی کے آئے پھر خدا تعالیٰ نے اس سختی کو بدل دیا اور آسانی کا ایک ایسا سال پیدا فرمایا جس نے گزشتہ سارے غم بھلا دیئے۔اُس وقت بُرے سالوں کے وقت مومن اور غیر مومن میں ایک فرق دکھایا گیا ہے۔بُڑے سال آنے سے پہلے ہی خدا کے ایک مومن اور مقدس بندے کو یہ بتا دیا گیا کہ بُرے سالوں کا مومنوں پر کوئی غلبہ عطا نہیں کیا جاتا بلکہ مومنوں کی برکت سے بُرے سال اچھے سالوں میں تبدیل کئے جاتے ہیں۔اسلئے بجائے اس کے کہ تم رویا سے ڈرو اور یہ محسوس کرو کہ بہت سخت دن آنے والے ہیں تم اپنی کمر ہمت کسو کیونکہ تمہارے ذریعہ دنیا کے حالات تبدیل کئے جائیں گے اور ڈوبتوں کو بچایا جائے گا اور فاقہ کشوں کیلئے رزق کا سامان کیا جائیگا۔چنانچہ اگر حضرت یوسف علیہ السلام نہ ہوتے یا خدا آپ کو اس غرض سے استعمال نہ فرماتا تو سختی کے یہ سال مصر اور اس کے گردو پیش جہاں مصر کا قبضہ تھا ان کیلئے انتہائی ہلاکت کے سال بن جاتے۔خدا کا یہی سلوک ہر حال میں ہر تبدیلی میں مومن کے ساتھ ہوا کرتا ہے۔مومن پر دن بھی آتا ہے اور رات بھی آتی ہے لیکن راتیں اس کے پاؤں روک نہیں لیا کرتیں ہاں رفتار میں ضرور فرق پڑ جاتا ہے لیکن وہ رفتار رک کر ایک مقام پر کھڑی نہیں ہو جاتی یا واپس نہیں لوٹتی ، تو یہ نمایاں فرق ہے جو قرآن کریم نے خوب کھول کر اچھی طرح مومن اور منافق اور کافر میں ظاہر فرما دیا۔جہاں تک منافقین کا تعلق ہے منافق کا لفظ قرآنی محاورے کے مطابق ان معنوں میں بھی استعمال ہوا ہے جن معنے میں ہم اردو میں منافق کہتے ہیں اور کافروں کیلئے بھی لفظ منافق استعمال ہوا ہے کیونکہ منافق در حقیقت کا فر ہوتا ہے اور ظاہر اُ مسلمان بن رہا ہوتا ہے۔تو منافقوں کے متعلق فرمایا إذَا أَظْلَمَ عَلَيْهِمُ قَامُوا (البقرة: 21) کہ مومن کا سفر دن کو بھی جاری رہتا ہے اور رات کو بھی جاری رہتا ہے