خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 316 of 682

خطبات وقف جدید — Page 316

316 حضرت خلیفہ امسیح الرابع اس سے ہی آپ اندازہ لگا سکتے ہیں مومن کی ہر ادا خدا کے قلب صافی پر کیسے حسین نقش پیدا کرتی ہے۔میں قلب صافی کا لفظ محاورے کے طور پر استعمال کر رہا ہوں ورنہ خدا کا تو کوئی قلب نہیں۔عرش ہے مگر اس کا بھی ظاہری وجود نہیں۔پس ان معنوں میں بندہ خدا کیلئے وہ لفظ استعمال کرنے پر مجبور ہے جو خدا کی ذات کے متعلق استعمال نہیں ہو سکتے۔مگر بات کو قابل فہم بنانے کیلئے اس کے سوا چارہ بھی نہیں۔جماعت احمد یہ عالمگیر اس بات کو پیش نظر رکھتے ہوئے کہ اس عورت کے جذبہ قربانی نے وقت کے امام کے دل پر گہرا اثر کیا تھا اپنے خدا کے حضور اس رنگ میں قربانیاں پیش کرتی رہے کہ خدا کے قلب صافی پر جماعت کی قربانیوں کے حسین نقش جمتے رہیں اور جس طرح اس اندھیرے میں ہونے والے مچاکوں کا مزہ خدا آسمان پر اٹھا رہا تھا اس طرح ہمارے سب کے دل میں گزرنے والے جذبات کا مزہ عرش پر خدا اٹھانے لگے اور وہ کہے کہ اے میرے بندو ! میری تم پر تحسین اور پیار کی نظر ہے اور جو کچھ تم دے رہے ہومیں سب کچھ قبول کرتا ہوں۔خطبہ ثانیہ کے دوران حضور نے فرمایا: نماز جنازہ غائب کے چند اعلانات ہیں۔سب سے پہلے تو جماعت کو یہ خبر افسوس سے سناتا ہوں کہ ہمارے ایک بہت ہی مخلص خادم دین سالکین صاحب جو جماعت احمد یہ سنگا پور کے امیر تھے کل صبح وفات پاگئے ہیں۔وہ دل کے مریض تھے اسکے باوجود جماعت کا کام کرتے رہے دوبارہ دل کا ہی دورہ ہوا یعنی بڑی دیر سے دل کی حالت زخمی تھی اور کسی وقت بھی ان کو خطرہ تھا لیکن وہ کبھی بھی کام سے نہیں رکے۔ایک دفعہ ان کی بچی کا ربوہ میں بھی خط آیا تھا کہ ہم جانتے ہیں کہ ان کا حال کیا ہے؟ اور کئی دفعہ ہم سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ اگر کام چھوڑ نہیں سکتے تو اپنے پر سے بوجھ ذرا ہلکا کر لیں انہوں نے لکھا کہ وہ کسی قیمت پر بھی کام میں تخفیف کرنے پر تیار نہیں ہوتے۔وہ کہتے ہیں جماعت کا کام میں نہیں چھوڑ سکتا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ توفیق دی کہ جس مسجد کے بنانے کی بڑے دیر سے تمنا تھی وہ مکمل ہوئی اور بڑی خوبصورت مسجد تیار ہوئی۔پھر اس کو دیکھا پھر اس میں نمازیں ادا کیں۔اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے جماعت کو اور برکتیں دیں تبلیغ کا سلسلہ شروع ہو گیا جو بڑی دیر سے رُکا ہوا تھا۔لیکن اگر دل کی بیماری نہ ہوتی تو اتنی عمر نہیں تھی کہ انسان سمجھے کہ رخصت ہونے کی عمر آگئی تھی۔ہم یہی کہہ سکتے ہیں اور کہنا چاہئے کہ خدا کی تقدیر ہی تھی جو پوری ہوئی۔بہر حال وہ ہمارے دل کو حزیں بنا کر جدا ہوئے ہیں۔ان کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی۔مکرم فقیر محمد صاحب موہی جو کنری سندھ کے رہنے والے تھے فوت ہو گئے ہیں یہ وہ دوست ہیں جن کا میں نے ذکر کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں بڑی لمبی عمر عطا فرمائی تھی۔جب میں پہلی دفعہ ان سے ملا ہوں اس وقت بیان